حیات شمس

by Other Authors

Page 76 of 748

حیات شمس — Page 76

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 76 76 فتنہ ارتداد کی روک تھام کیلئے جماعت میں تحریک کی تو کئی سو آدمیوں نے میدان فتنہ ارتداد میں کام کرنے کیلئے نام دیئے مگر بہت سے نام دینے والوں نے فتنہ ارتداد میں کام کیا اور ایسا کام کیا که قریباً تمام اخبارات ہندوستان نے یک قلم و یک زبان ہوکر احمد یہ جماعت کی مساعی جمیلہ اور خدمات حسنہ کا اعتراف کیا اور کہا کہ اس جماعت کا کام قابل تعریف اور سب جماعتوں سے اعلیٰ درجہ پر ہے مگر اب کچھ ست ہو گئے ہیں۔اس پر ایک شخص نے دو احمدیوں کا ذکر کیا جنہوں نے اپنے نام فتنہ کی ارتداد کی روک تھام کرنے کے لئے دیئے تھے۔آپس میں کہہ رہے تھے۔پہلا : فتنہ ارتداد میں کام کرنے کیلئے نام تو دید یا تھا مگر اب جانے کو دل نہیں چاہتا۔دوسرا: آپ فکر نہ کریں جس فہرست میں میرا اور آپ کا نام تھا وہ فہرست گم ہوگئی ہے۔اسی طرح اور بہت سے ایسے اصحاب ہیں جنہوں نے پہلے جوش میں آکر نام تو دیدئے مگر کام کرنے کیلئے نہیں گئے۔ان میں سے اکثر ایسے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو ایسے ہی رکیک اور لغو پوچ عذرات کی بنا پر تسلی دے دی ہے کہ اب ہم خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل مواخذہ نہیں کیونکہ دفتر والوں کا کام تھا کہ وہ ہمیں بلاتے۔ان کا نہ بلانا خواہ کسی وجہ سے ہو ہماری سرخروئی کیلئے کافی ہے مگر ایسے لوگوں کو واضح رہے کہ اگر انہوں نے اپنے نام صرف نام و نمود کی غرض سے دیئے تھے یا کسی شخص کو خوش کرنے کیلئے تو اور بات ہے اور اگر انہوں نے خدا تعالیٰ کا کام سمجھ کر دیئے تھے تو وہ یادرکھیں کہ اگر دفتر والوں سے ان کے اسماء کی فہرست گم ہوگئی ہے تو جو فہرست خدا تعالیٰ کے پاس ہے وہ گم ہونے والی نہیں۔آج لوگوں کے سامنے تو کہہ سکتے ہو کہ ہم نے نام ہی نہیں دیا تھا مگر جب عالم الغیب خدا تعالیٰ کے سامنے پیشی ہوگی تو اس وقت تمہارا کیا عذر ہو گا۔اس دن رونا اور دانت پینا ہوگا۔ایک انسان تو دوسرے انسان سے دھو کہ کھا سکتا ہے مگر خدا تعالیٰ جو خبیر و بصیر اور دلوں کے حالات سے واقف ہے کیسے کسی کے دھوکہ میں آسکتا ہے۔اور ایسے اشخاص کو یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ اگر ان کے اسماء دفتر میں محفوظ نہیں رہے اور کوئی فہرست گم ہوگئی ہے تو ہوسکتا ہے اس میں بھی خدا تعالیٰ کو ان کا امتحان لینا منظور ہو۔پھر کسی وقت جا کر کاغذات میں ان کے اسماء کی فہرست مل جائے یا نام معلوم ہو جائیں تو کیا وہ اس قابل سمجھے جائیں گے کہ ان سے کوئی دینی خدمت لی جائے۔یہی سمجھا جائے گا کہ یہ دینی خدمت سر انجام نہیں دے سکتے۔ہوسکتا ہے کہ