حیات شمس — Page 75
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 75 ذاتی طور پر خواجہ شمس صاحب کی مصروفیت کا علم ہے کہ دن رات وہ سفر اور بے اطمینانی وبے سروسامانی کی حالت میں رہتے ہیں وہ خوب سمجھ سکتے ہیں کہ کس قدر تائید ربانی میرے فاضل دوست کے شامل حال تھی۔نہ اپنے وقت پر اختیار رکھتے ہیں کیونکہ جس وقت حکم ہوا اور جہاں حکم ہو فوراً ان کو اکثر پیادہ چل کر پہنچنا پڑتا ہے۔پھر پاس کتاب کوئی نہیں رکھ سکتے ہیں۔ایسی حالت میں سلسلہ احمدیہ کے پرانے دشمن کے مایہ ناز سرمایہ عمر گذشتہ اعتراضات کا اس خوبی سے قلع قمع کرنا ، خراج تحسین لئے بغیر نہیں چھوڑتا۔جزاہ اللہ احسن الجزاء۔میرا ارادہ تھا کہ مارچ کے رسالہ ( ریویو) میں یہ جواب نکال دوں مگر مذہبی کانفرس لاہور کا مضمون مقصد مذہب مل گیا۔اس کی اشاعت کو میں نے مقدم کیا اور اب رسالہ میں یہ جواب شائع کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو ایک جہاں کیلئے ہدایت کا موجب بنائے۔“ ریویو آف ریلیجنز قادیان اپریل 1924ء صفحہ 2) (نوٹ: آپ کی کتاب ” کمالات مرزا کا تعارف علمی کارناموں کے باب میں پیش کیا گیا ہے۔مؤلف) آپ کی خدمات کے حوالہ سے مکرم مولوی قمر الدین صاحب مرحوم تحریر کرتے ہیں : متحدہ ہندوستان کی صورت میں مولانا تقریباً ہر علاقہ میں کسی جلسہ کی تقریب یا مناظرہ پر تشریف لے گئے تو اس کامیابی سے واپس آئے کہ آج تک علاقہ کے اپنے اور بیگانے آپ کو یاد کرتے ہیں۔1924ء میں ملکانہ کے علاقہ میں فتنہ ارتداد کے موقع پر آریوں کے مد مقابل پر ہر جگہ شمس صاحب رضی اللہ عنہ جاتے اور اسلام کی برتری ثابت کرتے تھے اور آریہ مت کا رڈ کرتے تھے۔( خالد احمدیت جلد اول مرتبه عبدالباری قیوم، جلد اول صفحات 6-7) میدان فتنہ ارتداد میں کام کیلئے احباب جلد آگر و پہنچیں اس حصہ کے آخر میں خاکسار یہاں حضرت مولانا شمس صاحب کی میدان ارتداد آگرہ سے لکھی ہوئی ایک تحریر نقل کرتا ہے، آپ تحریر فرماتے ہیں: آگرہ میں ہم ایک دن بیٹھے ہوئے اس بات پر غور وخوض کر رہے تھے کہ اب وہ جوش لوگوں میں کیوں نہیں رہا جو ابتداء میں تھا۔پہلے پہل حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے