حیات شمس

by Other Authors

Page 45 of 748

حیات شمس — Page 45

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس اعلان کے بعد جلد ہی سلسلہ بیعت میں منسلک ہو گئے اور پھر وفات تک پوری استقام دکھائی۔45 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے 313 صحابہ میں آپ کا نام بتیسواں ہے [ ضمیمہ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 325]۔سنایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب 313 اصحاب کے نام لکھے تو بعض لوگ درخواست کرتے تھے کہ حضور ہما را نام بھی درج کر لیا جائے مگر ہمیں کچھ علم نہ تھا۔ایک دن ہم تینوں بھائی جب سیکھواں سے قادیان آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہم نے آپ کے نام 313 اصحاب میں لکھ لئے ہیں۔اس پر ہمیں بڑی خوشی اور مسرت حاصل ہوئی۔مرحوم نہایت عابد، زاہد اور تہجد گزار تھے۔نماز، چندہ اور تبلیغ سے ایک دم غافل نہ ہوتے تھے۔ابتدائی ایام میں جبکہ با قاعدہ دعوت و تبلیغ کا صیغہ قائم نہ تھا آنریری طور پر تبلیغ کرتے تھے۔ضلع گورداسپور کی بیشتر جماعتوں کے قیام میں آپ کا بھی دخل تھا۔جب تک سیکھواں رہے اس جماعت کے سیکرٹری رہے اور جماعت کی خوب خدمت کرتے رہے۔مولوی جلال الدین صاحب شمس کے ولایت جانے پر ان کو مجبور رہائش قادیان میں اختیار کرنی پڑی مگر باوجود اس کے جماعت سیکھواں کا کام اپنے ذمہ رکھا اور قادیان میں بھی مفوضہ کام نہایت خوبی سے سرانجام دیتے رہے۔خلافت ثانیہ کے شروع میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعتوں کو سمجھانے کیلئے ضلع گورداسپور اور ضلع سیالکوٹ میں ایک وفد بھیجا جس کے ایک ممبر آپ بھی تھے۔مالی قربانی ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دینی ضرورت کے لئے 150 روپیہ کی تحریک فرمائی۔حضور کے اظہار پر مرحوم نے مع برادران ، اور منشی عبد العزیز صاحب پٹواری ڈیڑھ صد روپیہ کی رقم پیش کر دی۔حضور بہت خوش ہوئے اور ایک اشتہار شائع کیا جس میں ان کا ذکر کیا اور تحریر فرمایا کہ ان لوگوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نمونہ دکھایا ہے۔