حیات شمس — Page 596
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 564 میرا قادیان درویشی میں رہنا بھی ماموں جان کی شفقت سے ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے آمین ثم آمین۔ماموں جان کے دستخطوں سے ہی سب درویشان کو درویشی نمبر کے کارڈ ملے تھے۔تاثرات محررہ اپریل 2006 ء۔حاصل کردہ مکرم منیر الدین صاحب شمس) ساد و لوح بزرگ ( مکرم ملک محمد سلیم صاحب مربی سلسلہ ) خاکسار 1963ء میں بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوا۔1964ء میں جامعہ احمدیہ میں داخلہ لے لیا۔1964ء میں ہی حضرت مولانا شمس صاحب سے تعارف ہوا۔آپ سادہ لوح بزرگ تھے اور طلباء سے بھی بسا اوقات مشورہ کرتے تھے۔چونکہ خاکسار نو مبائع تھا اس لئے مجھ سے زیادہ شفقت کا سلوک فرماتے۔ایک دفعہ فرمانے لگے کہ چلو دورہ پر چلتے ہیں اور تم چونکہ نو مبائع ہو اس لئے اس کا تبلیغ و تربیت پر اچھا اثر پڑے گا۔میں نے عرض کیا کہ رخصت نہیں ملے گی۔آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں جامعہ سے چھٹی لے دیتا ہوں۔بہر حال آپ طلباء سے شفقت کا سلوک فرماتے۔1965-66ء کی بات ہے۔آپ کے بیٹے مکرم منیر الدین صاحب شمس نے جب میٹرک کر لیا تو خاکسار سے از راہ شفقت فرمانے لگے کہ کیا خیال ہے میٹرک کے بعد جامعہ بھیجا جائے یا اسے BA کرا کر بھیجا جائے؟ تو خاکسار نے عرض کیا کہ میٹرک کے بعد جامعہ بھیجنا زیادہ مناسب ہوگا کیونکہ شاہد کی ڈگری مکمل کرتے کرتے وہ BA یا MA بھی پرائیویٹ کر سکتے ہیں۔چنانچہ بعد میں مکرم منیر الدین شمس صاحب میٹرک کے بعد جامعہ میں داخل ہوئے اور اب آپ کامیاب مبلغ کی حیثیت سے خدمات سلسلہ بجالا رہے ہیں۔ایفائے عہد اور پابندی وقت (انٹرویو 5 ستمبر 2005ء) تاثرات مکرم پروفیسر رفیق احمد ثاقب صاحب ربوہ) اس عاجز کا حضرت مولانا شمس صاحب سے زیادہ تعلق تو نہیں رہا تا ہم دوتین ذاتی مشاہدات بیان کرنا چاہتا ہوں۔1952ء کی بات ہے یہ عاجز ان دنوں فضل عمر ہوٹل تعلیم الاسلام کالج لاہور میں مقیم تھا۔ہوسٹل میں تقاریر کا مقابلہ تھا جس میں مجھے بھی شامل ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔میری تقریر کا موضوع ” اسلام کا اقتصادی نظام تھا۔ان ایام میں ہوٹل میں مرکزی نمائندے آتے ہی رہتے