حیات شمس — Page 597
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 565 تھے۔ہمارے اس پروگرم کے وقت حضرت مولانا شمس صاحب آئے ہوئے تھے اور اس تقریری مقابلہ کے منصف اعلیٰ تھے۔میری اس مقابلہ میں تیسری پوزیشن آئی۔جب مولانا موصوف نے نتائج کا اعلان کیا تو میرے نام پر یہ ریمارکس بھی دیئے کہ ان کی تقریر تو اچھی تھی لیکن اس کا زیادہ حصہ موضوع سے ذرا ہٹ کر تھا۔ان کا اصل موضوع تو اسلام کا اقتصادی نظام تھا مگر تقریر میں انہوں نے زیادہ تر اسلام کا حکومتی نظام پیش کیا ہے۔میری یہ ان دنوں ابتدائی تقریر تھی اتنا ماہر تو تھا نہیں۔میں نے اس تقریر کیلئے سید نا حضرت مصلح موعودؓ کے لیکچر اسلام کا اقتصادی نظام“ سے استفادہ کیا تھا اور چونکہ اس کا ابتدائی حصہ اسلامی نظام حکومت پر ہے اس لئے یہی حصہ تقریر میں پیش کر دیا۔بہر حال مجھے حضرت مولانا صاحب کے ان ریمارکس سے بڑی مدد ملی کہ تقریر ہمیشہ موضوع کے مطابق ہی کرنی چاہئے۔1964 ءکا ذکر ہے خاکساران ایام میں رسالہ خالد کام پر تھا کہ غالبا یوم مصلح موعود کے سلسلہ میں خاکسار ان کے گھر حاضر ہوا اور مضمون لکھنے کی درخواست کی۔حضرت مولا نائٹس صاحب نے حامی بھر لی کہ میں مضمون لکھ کر دیدوں گا۔مجھے یاد ہے کہ اتنے Short Notice میں توقع نہیں تھی کہ مضمون لکھا جائے گا۔جب خاکسار حسب وعدہ مضمون لینے گیا تو میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ واقعہ آپ نے اتنے کم وقت میں نہایت خوش خط اور سلیس اردو میں رسالہ خالد کیلئے ایک مضمون لکھ کر رکھا ہو ا تھا جو عنایت فرما دیا۔اس سے میں نے یہی اندازہ لگایا کہ پابندی وقت اور ایفائے عہد آپ کی شخصیت کا حصہ تھی۔آپ کی پابندی وقت کے حوالہ سے ایک اور بات یہ کہ سید نا حضرت مصلح موعودؓ کے ایام بیماری میں آپ مسجد مبارک میں نمازیں پڑھاتے اور خطبہ جمعہ بھی دیتے تھے۔اس دوران میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ مسجد مبارک میں کبھی تاخیر سے پہنچے ہوں۔انجمن کے کواٹرز میں آپکا گھر تھا۔آپ وہاں سے پیدل نکلتے اور عین نماز کے وقت مسجد میں پہنچ جاتے اور کبھی بھی تاخیر سے نہ پہنچتے۔آپ کے انداز خطابت میں ایک خاص Rythem ہوتا تھا۔آواز نہ بہت اونچی اور نہ ہی بہت دھیمی تاہم نہایت اثر انگیز ہوتی تھی۔تقاریر و خطابات اور خطبات کے دوران آپ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ مائیک مونہہ سے مناسب فاصلے پر ہو تا کہ سامعین تک کما حقہ آواز پہنچے۔تاثرات فروری 2006ء)