حیات شمس — Page 588
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 556 تقویٰ کی تعریف فرمائی۔اُن کیلئے خاص دُعا کی۔جماعت احمدیہ کے ہزاروں نیک لوگوں نے آپ کی جدائی کے صدمہ کو محسوس کیا اور آپ کی خدمات کا اعتراف کیا۔ایک عرب شاعر نے کہا تھا: کہ اے انسان ! جب تو پیدا ہوا تھا تو روتا تھا اور لوگ خوشی سے ہنستے تھے اب تو زندگی میں ایسے اعمال کر کہ جب تیری موت کے وقت وہ روتے ہوں تو تو خنداں و فرحاں اس جہان سے جائے۔یہ بات حضرت مولانا شمس کے حق میں بھی پوری صادق آتی ہے۔دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرمائے آمین یارب العالمین۔(ماہنامہ الفرقان جنوری 1968ء) پرانی یادیں از مکرم طه اقزق صاحب صدر جماعت اردن، اردو ترجمہ مکرم محمد طاہر صاحب ندیم عربیبک ڈیسک لندن) نوٹ: یہ تحریر مکرم طلا قزق صاحب نے مکرم منیر الدین صاحب شمس کو 2006 ء میں لکھ کر دی تھی۔اب ان کی وفات ہو چکی ہے۔مکرم مولانا جلال الدین صاحب شمس آج سے تقریباً 78 سال قبل یعنی 1928ء میں حیفا تشریف لائے۔اس وقت میری عمر نو سال تھی۔قبل ازیں وہ دمشق میں تھے اور وہاں مولویوں کے ساتھ وفات مسیح ناصری علیہ السلام اور صداقت مسیح موعود علیہ السلام جیسے مسائل پر بحث مباحثہ کرتے رہے اور جب مولوی ان کا دلیل و برہان کے ساتھ مقابلہ کرنے سے عاجز آگئے تو بعض جرائم پیشہ لوگوں کو بھیج کر آپ کو قتل کروانا چاہا۔یہ سخت سردی کا موسم تھا اور آپ نے ایک موٹا کوٹ پہن رکھا تھا۔ان مجرموں میں سے ایک نے آپ پر چاقو سے وار کیا اور چاقو دل تک جا پہنچا لیکن چاقو اور دل کے درمیان اتنا ہی فاصلہ رہ گیا جتنی کہ اس کوٹ کی موٹائی تھی جو آپ نے پہنا ہو اتھا۔آپ نے اس کوٹ کو بہت سنبھال کر رکھا ہو اتھا اور جب حیفا تشریف لائے تو بھی یہ کوٹ آپ کے پاس تھا اور میرا خیال ہے کہ آپ اسے قادیان اپنے ہمراہ ہی لے گئے تھے۔حملہ آوروں نے یہی سمجھا کہ آپ فوت ہو گئے ہیں۔چنانچہ انہوں نے آپ کو خون میں لت پت چھوڑ کر اپنی راہ لی اور ہمسایوں نے آپ کو ہسپتال پہنچایا۔جناب مکرم منیر اکھنی صاحب کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ فوراً ہسپتال پہنچے لیکن آپ کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی کیونکہ مولانا صاحب کی حالت بہت تشویشناک تھی۔آپ نے ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر سے