حیات شمس

by Other Authors

Page 589 of 748

حیات شمس — Page 589

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 557 اجازت لی اور حضرت مولانا سے ملے تو انہوں نے منیر احصنی صاحب کو کہا کہ میرے گھر کے فلاں کمرہ میں فلاں جگہ پر سونے کی اشرفیاں پڑی ہوئی ہیں ان میں سے کچھ فروخت کر کے قادیان حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں دعا کا تار بھیج دیں۔مکرم منیر احصنی صاحب نے ایسا ہی کیا اور ان کو جوابی تار بھی موصول ہو گیا کہ آپ کی تارمل گئی ہے اور ہم نے دعا کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے دعا سن لی ہے۔کسی کو علم نہ تھا کہ یہ سونے کی اشرفیاں کہاں سے آئی ہیں۔امام مہدی کی تلاش میں شام کے پہلے احمدی مکرم مصطفیٰ نو یلاتی صاحب علوی شیعہ تھے۔ان کے والد صاحب امام مہدی کی تلاش میں تھے اور وہ اس غرض سے اپنے چند بھائیوں کے ساتھ ایران، عراق اور شاید افغانستان کے علاقوں تک بھی گئے تھے لیکن انہیں امام مہدی کے بارہ میں کوئی خبر نہ مل سکی تاہم ان کا راسخ اعتقاد تھا کہ یہی وقت ظہور مہدی کا ہے۔مصطفیٰ نو یلاتی صاحب کے والد صاحب نے یہ اشرفیاں اپنے بیٹے کو دی تھیں اور کہا تھا کہ جب تم امام مہدی سے ملو تو اس کو میری طرف سے یہ اشرفیاں بطور چندہ دینا اور جب مولانا جلال الدین صاحب شمس دمشق تشریف لائے تو مصطفی نو یلاتی صاحب وہ پہلے شخص تھے جو بیعت کر کے جماعت میں داخل ہوئے اور انہوں نے اپنے والد کی دی ہوئی اشرفیاں مولانا جلال الدین صاحب شمس کے حوالہ کردیں۔جب آپ صحت یاب ہوئے تو آپ کو مرکز جماعت قادیان سے حکم ہوا کہ آپ حیفا فلسطین چلے جائیں۔آپ حیفا تشریف لائے اور شارع الناصر پر ریلوے اسٹیشن کے قریب کرایہ کے گھر میں رہنے لگے۔اسی جگہ پر میرے والد ، میرے چچا اور مکرم رشدی بسطی صاحب بھی کام کرتے تھے۔انہی دنوں اخباروں نے لکھنا شروع کیا کہ حیفا میں ایک مبلغ آئے ہیں اور ایسے عقائد کی طرف بلاتے ہیں جن کو لوگ نہیں جانتے۔رشدی بسطی صاحب مولانا جلال الدین صاحب شمس سے ملنے گئے اور نہ جانے کتنی دفعہ ملاقات کی حتی کہ بیعت کر لی۔میرے والد صاحب بھی ایک دفعہ گئے اور جب واپس آئے اور سوئے تو خواب میں ان کو آواز سنائی دی کہ اے حاجی جلدی کرو احمدی تو مدینہ منورہ کے بھی متولی بن گئے ہیں۔چنانچہ وہ اگلے دن ہی گئے اور بیعت کر لی۔میرے والد صاحب دیسی جڑی بوٹیوں سے علاج و معالجہ کیا کرتے تھے اور اس میں بڑے حاذق