حیات شمس — Page 587
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 555 خدمت میں حاضر نہ ہوسکا۔ایک جمعہ کے موقعہ پر انہوں نے خطبہ میں میرا نام لے کر سوالات بتائے اور وو پھر ان کے جوابات بھی دیئے۔جب آپ الشرکۃ الاسلامیہ لمیٹڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر تھے میں ان دنوں تعلیم الاسلام کالج میں پڑھتا تھا۔آپ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جملہ کتب ” روحانی خزائن کے نام سے طبع کروا ر ہے تھے اور ساتھ ساتھ الشرکۃ کی طرف سے یہ اعلان بھی شائع ہورہے تھے کہ اتنی رقم جمع کروا دیں تو روحانی خزائن کا سیٹ مل جائیگا۔میں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ کا بہت شوق ہے لیکن میں سیٹ کی قیمت یکجا طور پر نہیں دے سکتا۔پانچ روپے ماہانہ قسط دے سکتا ہوں۔اس پر انہوں نے مکرم شیخ عبد الخالق صاحب کو (جو دفتر میں کارکن تھے ) کہا کہ اس نوجوان کو حضور کی کتب کا بہت شوق ہے لہذا ان کی رقم اقساط میں وصول کی جائے اور روحانی خزائن سیٹ کی کتب دے دی جائیں۔مجاہد احمدیت (محررہ 12 مئی 2007ء) ( حضرت مولانا ابوالعطاء جالندھری) مجاہد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس ایک فعال وجود تھے۔مومن کیلئے سب سے بڑی خوشی اس بات میں ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ذرہ نوازی فرما کر اسے قبول کرلے۔اس کی خامیوں پرستاری فرمائے۔اس کی خدمات کو شرف قبولیت بخش دے اسے حسنِ خاتمہ سے بہرہ ور فرمائے۔اللہ تعالیٰ دلوں کو جانتا ہے، وہی نیتوں اور ارادوں سے واقف ہے اس لئے عمل صالح کی اصل مقبولیت خدا تعالے کے ہاں ہی ہوتی ہے۔ہاں اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے دلوں میں اس کی قبولیت پیدا کر دیتا ہے۔گویا شُهَدَاءُ اللهِ فِی الْأَرِض “ کی شہادت بھی مقبولانِ بارگاہ ایزدی کے حق میں قائم ہو جاتی ہے۔مولانا شمس صاحب کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حضور قبولیت عطا فرمائی۔ان کی خدمات دینیہ کو نو از ا۔سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے انہیں اُن کی زندگی میں خالد احمد بیت کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ان کے علمی کارناموں کی تعریف فرمائی۔حضرت قمر الانبیاء مرزا بشیر احمد صاحب نے ان کی زندگی میں ان کے کارناموں کو سراہا اور انہیں حضرت حافظ روشن علی صاحب کی یاد گار قرار دیا۔ان کی وفات کے بعد سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی زندگی کو قابلِ رشک قرار دیا اور ان کی نیکی اور