حیات شمس

by Other Authors

Page 575 of 748

حیات شمس — Page 575

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 543 وو " کاش اگر حضرت حافظ صاحب اس وقت زندہ ہوتے تو محترم مولوی ابوالعطاء صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب شمس کے علمی کارناموں کو دیکھ کر ان کو کتنی خوشی ہوتی کہ میرے 66 شاگردوں کے ذریعہ میری یا دزندہ ہے۔“ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ حضرت شمس صاحب کے درجات بلند فرمائے اور سلسلہ کو ہمیشہ ایسے مخلص اور بے لوث خادم عطا فر ما تار ہے۔آمین۔(الفضل ربوہ 9 دسمبر 1966ء) حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کی میری چند یادیں مکرم و محترم صاحبز اداہ مرزا انس احمد صاحب) بہت ہی پیارے وجود تھے مجھ سے بہت پیار کرتے تھے اور میں اکثر دفتر میں جاتا اور آپ کے پاس بیٹھ کر فائدہ اٹھاتا۔آپ کے میرے پر بہت سے احسانات تھے۔اُن میں سے سب سے بڑا احسان یہ تھا کہ جب روحانی خزائن شائع ہونی شروع ہوئی اور شمس صاحب نے اعلان کیا کہ سیٹ کی اتنی قیمت ہے اور جو خریدنا چاہیں وہ رقم بھیج دیں اور جس طرح جس طرح سیٹ کی کتابیں چھپتی جائیں گی ہم بھیجتے جائیں گے۔اُس وقت میں کالج میں پڑھ رہا تھا۔اب مجھے یاد نہیں کہ FA میں تھا یا BA میں بہر حال کا لج میں تھا اور مجھے میرے ابا کی طرف سے پانچ روپے ماہانہ جیب خرچ ملا کرتا تھا۔میں نے شمس صاحب سے عرض کیا کہ مجھے پانچ روپے ماہانہ جیب خرچ ملتا ہے اور یہ میں سیٹ کی قسط کے طور پر ہر ماہ آپ کو دیتا رہوں گا آپ ایک سیٹ میرے لئے ریز رو کر لیں۔کبھی میری رقم آپ کی طرف زیادہ ہو جائے گی کبھی میں پیچھے رہ جاؤں گا۔بہر حال ساری رقم میں ادا کر دوں گا۔آپ نے انتہائی شفقت سے میری درخواست قبول کرلی۔یہ بہت بڑا احسان تھا۔مجھے حضرت مسیح موعود کی کتابیں پڑھنے کے لئے لائبریری جانے کی ضرورت نہیں پڑی۔آپ مجھے بہت سے واقعات بتایا کرتے جن میں سے ایک کا ذکر میں کرتا ہوں۔آپ نے مجھے بتایا کہ جب حضرت مصلح موعود مسند خلافت پر بیٹھے تو اس وقت آپ مدرسہ احمدیہ میں عربی پڑھاتے تھے تو شمس صاحب اور ایک اور طالب علم جن کا نام مجھے بھول گیا ہے، حضور سے صرف ونحو پڑھتے تھے اور کلاس کا وہ آخری سال تھا۔اس پر حضور نے از راہ شفقت فرمایا کہ آپ دونوں کی کلاس قصر خلافت میں میرے دفتر میں ہوا کرے گی۔چنانچہ آپ اس ٹرم کے جو باقی مہینے تھے حضرت صاحب سے صرف و نحو پڑھتے رہے اور بڑے اچھے نمبروں سے پاس ہوئے۔میرا نکاح بھی شمس صاحب نے ہی 64 ء کے جلسہ سالانہ