حیات شمس

by Other Authors

Page 576 of 748

حیات شمس — Page 576

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 544 پر حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر پڑھایا تھا کیونکہ حضور اس وقت بیمار ہو چکے تھے اور صاحب فراش تھے۔خلافت ثالثہ کا جب انتخاب ہوا تو شمس صاحب نے ہی وہ تمام رؤیا وکشوف اکٹھے کئے تھے جو مختلف وقتوں میں لوگ حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی خلافت کے بارہ میں دیکھتے رہے۔خلافت ثالثہ کے انتخاب کے تھوڑے ہی عرصہ بعد آپ کی وفات ہو گئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کو آپ کی وفات کا اتنا صدمہ تھا کہ آپ انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ کر بستر پر لیٹ گئے اور کافی دیر لیٹے رہے اور دعائیں کرتے رہے۔سٹس صاحب کی وفات سے آپ کو جو صدمہ ہوا اس کا اثر آپ کے چہرہ پر اتنا گہرا تھا کہ ابھی تک میرے ذہن پر نقش ہے۔پھر حضور وفات کے چند گھنٹے کے بعد شمس صاحب کے گھر گئے ، آپ کا چہرہ دیکھا، بچوں سے باتیں کیں، ان کوتسلی دی اور کافی دیر وہاں بیٹھے رہے۔یہ نظارہ بھی مجھے خوب اچھی طرح یاد ہے۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث مجھ سے اکثر یہ ذکر کرتے تھے کہ مکرم شمس صاحب بے نفس واقف زندگی ہیں بہت قناعت ہے اور واقف زندگی سے جو بھی مطالبہ کیا جائے اُس کے لئے تیار رہتے ہیں۔اظہار کرنا تو کیا کبھی یہ بھی نہیں سوچا کہ واقف زندگی کو جو جذباتی قربانی دینی پڑتی ہے وہ بعض دفعہ کتنی مشکل ہوتی ہے۔کسی قسم کا احساس کمتری نہیں تھا اور اس ضمن میں کبھی کوئی شکوہ نہیں کیا ، مطالبہ نہیں کیا۔یہ بات اس لئے بھی قابل ذکر ہے کہ شمس صاحب کے زمانہ میں واقفین زندگی کو آج کل کے واقفین زندگی کے مقابلہ میں بہت زیادہ قربانی دینی پڑتی تھی۔آپ نے یہ قربانی خندہ پیشانی سے دی اور یہ سمجھ کر دی کہ یہ اللہ تعالیٰ کا آپ پر بہت بڑا احسان ہے کہ آپ کو اس خدمت کے قابل سمجھا گیا اور قبول کیا گیا اور یہی اُن کا فخر تھا اور اس میں وہ راضی تھے۔اللہ تعالیٰ اُن کے درجات کو بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے۔تحریر برتحریک مکرم منیر الدین شمس صاحب محررہ فروری 2010ء) کچھ واقعات والد محترم اور امی سعیدہ بانو کے تاثرات محترمه جمیلہ نیم صاحبہ بنت حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب) (نوٹ : مکر مہ جمیلہ نسیم صاحبہ بنت حضرت مولانا شمس صاحب ک یہ انٹر ویو کرم ناصر الدین شمس اور ان کی اہلیہ مبارکہ شمس صاحبہ نے فروری 2008ء میں لیا۔فجز اھما اللہ احسن الجزاء) ابتداء میں ہمارے ابا جان کی مالی حالت اتنی اچھی نہ تھی بمشکل گزارہ ہوتا تھا لیکن آپ کی اہلیہ یعنی ہماری امی سعیده بانو شمس صاحبہ امیر گھرانے سے تھیں۔ان کے والد حضرت خواجہ عبید اللہ صاحب