حیات شمس

by Other Authors

Page 571 of 748

حیات شمس — Page 571

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس ” والله إِنَّهُ لأبن عبّاس فينا“ یعنی اللہ کی قسم یہ شخص ہم میں حضرت ابن عباس کے مقام پر ہے۔مولانا موصوف نے اپنے لیکچر میں قرآن کریم سے عصمت انبیاء کو ثابت کیا اور تمام وہ آیات جنہیں عیسائی انبیاء کی عصمت کے خلاف پیش کرتے ہیں ان کا جواب دیا اور صحیح مطلب بیان کیا۔مولانا جلال الدین صاحب شمس کی خدمات جلیلہ 539 (الفضل ربوہ 20اکتوبر 1966ء) ( حضرت مولانا ابوالعطاء جالندھری) مولانا شمس صاحب رضی اللہ عنہ نے اسلام و احمدیت کیلئے بے لوث خدمات میں زندگی گزاری ہے۔زمانہ طالب علمی سے لے کر آخری سانس تک وہ اسلام کے لئے شمع کے پروانہ کی طرح قربان ہوتے رہے۔انہوں نے 1919ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کیا اور خاکسار نے 1924ء میں۔اس طرح ان میں اور مجھ میں پانچ برس کا فاصلہ تھا۔مدرسہ احمدیہ کی تعلیم کے دوران مجھے کچھ عرصہ کیلئے ان کا ہم مکتب ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا ہے۔مدرسہ احمدیہ کا نصاب ان دنوں آٹھ سال کا تھا۔آٹھویں سال میں مولوی فاضل کا امتحان دیا جاتا تھا۔گویا مولانا شمس صاحب آخری جماعتوں میں تھے اور میں ابتدائی جماعتوں میں۔مجھے خوب یاد ہے کہ ان کے اور دوسرے احباب کے مضامین تفخیذ الاذہان وغیرہ میں پڑھ کر مجھے مدرسہ کی دوسری جماعت میں ہی احساس ہوتا تھا کہ جب ہم بڑے ہوکر مضمون لکھنے کے قابل ہوں گے شاید اس وقت تک یہ علماء سب مضامین ختم کر دیں گے۔یہ میرے شوق اور بچپن کی سادگی کا ایک نمونہ تھا۔بہر حال مولانا شمس صاحب حضرت قاضی اکمل صاحب کی صحبت کے زیر اثر مدرسہ کی آخری جماعتوں میں کافی مضمون لکھتے تھے۔میں نے جب پہلا مضمون تیسری جماعت میں ” اسلام اور تلوار کے زیر عنوان لکھا اور جناب سردار محمد یوسف صاحب مرحوم ایڈیٹر اخبار نور نے اسے عمدہ ریمارکس کے ساتھ اخبار کے ادارتی کالموں میں شائع فرمایا تو مولانا شمس صاحب نے از راہ مذاق مدرسہ کے صحن میں مجھے کہا کہ اچھا اب تو