حیات شمس

by Other Authors

Page 570 of 748

حیات شمس — Page 570

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 538 گئے تو اس کامیابی سے واپس آئے کہ آج تک علاقہ کے اپنے اور بیگانے آپ کو یاد کرتے ہیں۔1924ء میں ملکانہ کے علاقہ میں فتنہ ارتداد کے موقع پر آریوں کے مد مقابل پر ہر جگہ شمس صاحب رضی اللہ عنہ جاتے اور اسلام کی برتری ثابت کرتے تھے اور آریہ مت کارڈ کرتے تھے۔آپ کے بعض اوصاف ( خالد احمدیت جلد اول مرتبه عبد الباری قیوم، جلد اول صفحات 6-7) حضرت مولانا قمر الدین صاحب سیکھوانی مزید تحریر فرماتے ہیں۔1- قرآن کریم سے آپ کو بہت محبت تھی۔گو آپ قرآن کریم کے حافظ نہ تھے مگر قرآن کریم کا بہت سا حصہ آپ کو یاد تھا اور نماز پڑھاتے وقت خوش الحانی سے بڑے ذوق وشوق سے قرآن کریم پڑھتے تھے اور مقتدی اصحاب مولانا کی تلاوت سے حظ اٹھاتے تھے۔2 سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دور میں مولانا نے جہاں اطاعت اور فرمانبرداری کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا وہاں کا رہائے نمایاں کی بھی توفیق ملی اور عربی ممالک اور انگلستان میں فریضئہ تبلیغ کی ادائیگی کے سلسلہ میں بھی نمایاں کام سرانجام دیئے اور ان علاقوں کے احباب اب تک آپ کو یاد کرتے ہیں۔3۔فلسطین کے قیام کے دوران ایک دفعہ دورہ کرتے ہوئے آپ مصر تشریف لے گئے۔ان دنوں وہاں شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مرحوم اخبار نکالتے تھے۔مولانا کے مصر پہنچنے پر مشورہ سے طے ہوا کہ ایک پبلک لیکچر ہو۔لیکچر کیلئے عصمت انبیاء کا موضوع تجویز ہوا۔اعلان کر دیا گیا۔لوگوں کو دعوت دی گئی۔اس موضوع پر مولانا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودہ علم کلام کی روشنی میں اس خوبی سے لیکچر دیا کہ اپنے اور بیگانے سب متاثر ہوئے۔جماعت احمدیہ کے سیکرٹری عبدالحمید آفندی نے قادیان آکر بیان کیا کہ لیکچر سننے کے بعد ہم احمدیوں نے خوشی سے محترم شمس صاحب کو کندھوں پر اٹھالیا اور دُور تک اٹھا کر لے گئے۔جلسہ کے اختتام پر ایک بڑے ادیب نے سب دوستوں کو ٹھہر الیا اور آدھ گھنٹہ کے قریب مولا نائٹس صاحب کی مدح اور تعریف کرتا رہا۔اس نے بیان کیا کہ ایسا لیکچر آج تک ہم نے کبھی نہیں سنا تھا۔ایک فقرہ جو آپ کی تعریف میں کہا گیا وہ یہ تھا: