حیات شمس — Page 13
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 13 کھانا کھلایا جاتا تھا۔مسجد مبارک کی چھت پر کچھ زمانہ سب مہمانوں میں آپ بیٹھ کر کھانا کھاتے رہے ہیں۔شام کی نماز پڑھ کر بیٹھ جاتے۔پھر گفتگو ہوتی رہتی اور عشاء کی نماز پڑھ کر تشریف لے جاتے اور کھانا حضوڑ جو کھاتے بہت تھوڑ اسا ٹکڑہ منہ میں ڈالتے اور بہت آہستہ آہستہ کھاتے اور کچھ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے دستر خوان پر گراتے اور چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں ڈالتے۔بالکل تھوڑا کھانا کھاتے تھے۔(رجسٹر روایات نمبر 7 صفحات 420-422) بیعت سیکھوانی برادران بیعت کی بابت حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوانی بیان کرتے ہیں : جس وقت حضور نے بیعت کا اشتہار دیا تو لدھیانہ میں حضور نے بیعت لینی شروع کی۔جب حضرت اقدس علیہ السلام لدھیانہ سے قادیان تشریف لائے ہم تینوں بھائی حضور کے پاس آئے۔عرض کی کہ حضور ہم کو بھی بیعت میں داخل کر لیں۔تو حضور نے منظور فرما کر ہاتھ مبارک نکال کر ہاتھ میں ہاتھ لے کر علیحدہ بیعت لی۔پھر حضوڑ ایک رجسٹر لائے جس پر پہلی بیعت مولوی نور الدین صاحب کی تھی باقی اور دوستوں کے نام تھے۔قریباً ڈیڑھ صد نمبر کی تعداد تھی جو ہم نے تینوں بھائیوں نے اپنے ہاتھ سے نام لکھے تھے۔(رجسٹر روایات نمبر 5 صفحہ 58) اسماء گرامی چندہ دہندگان برائے منارة المسیح قادیان سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسیح کے دمشق کے شرقی جانب سفید منارہ پر نازل ہونے کی پیشگوئی کو ظاہری طور پر بھی پورا کرنے کیلئے دمشق کے عین مشرق یعنی قادیان میں ایک سفید منارہ تعمیر کروانے کا آغاز فرمایا۔منارة امسیح قادیان کی تعمیر کے سلسلہ میں چندہ دہندگان میں اس تاریخی سعادت میں سیکھوانی خاندان کے حسب ذیل افراد شامل ہیں۔نمبر شمار :64 میاں محمد صدیق سیکھواں نمبر شمار :65 میاں امام الدین سیکھواں نمبر شمار : 66 میاں جمال الدین سیکھواں نمبر شمار : 68 میاں خیر الدین سیکھواں احمدیہ جنتری قادیان 1932 صفحہ 38)