حیات شمس — Page 14
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس قابل رشک نمونه سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: 14 میں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتا ہوں کہ ان میں نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال الدین اور خیر الدین اور امام الدین کشمیری میرے گاؤں سے قریب رہنے والے ہیں۔وہ تین غریب بھائی جو شاید تین آنہ یا چار آنہ روزانہ مزدوری کرتے ہیں سرگرمی سے ماہواری چندہ میں شریک ہیں۔ان کے دوست میاں عبد العزیز پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب ہے کہ باوجود قلت معاش کے ایک دن سور و پیہ دے گیا کہ میں چاہتا ہوں کہ خدا کی راہ میں خرچ ہو جائے۔وہ سو روپیہ شاید اُس غریب نے کئی برسوں میں جمع کیا ہو گا مگر تہی جوش نے خدا کی رضا کا جوش دلایا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 313-314) حضرت اقدس نے آپ کی مخلصانہ مالی قربانی اور خدمت کا بھی تذکرہ فرمایا ہے۔آپ نے اشتہار جلسته الوداع، ضمیمہ اشتہار الانصار 4 اکتوبر 1899ء میں فرمایا: ”میاں جمال الدین کشمیری ساکن سیکھواں ضلع گورداسپورہ اور ان کے دو برادر حقیقی میاں امام الدین اور میاں خیر الدین نے پچاس روپے دیئے۔ان چاروں صاحبوں [ چوتھے حضرت منشی عبد العزیز صاحب پٹواری ساکن او جله ضلع گورداسپور کا ذکر ابتداء میں فرمایا۔ناقل] کے چندہ کا معاملہ نہایت عجیب اور قابل رشک ہے کہ وہ دنیا کے مال سے نہایت ہی کم حصہ رکھتے ہیں گویا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرح جو کچھ گھروں میں تھا وہ سب لے آئے ہیں اور آخرت پر مقدم کیا جیسا کہ بیعت میں شرط تھی۔“ دیکھیں مجموعہ اشتہارات ، جلد سوم صفحہ 167) جولائی 1900ء میں ان بھائیوں اور ان کے والد محد صدیق صاحب چاروں کی طرف سے ایک سو رو پیه منظور فرما کر فہرست برائے چندہ تعمیر منارۃ اُسیح میں ان کے نام نمبر 64 تا 68 پر درج فرمائے۔چونکہ سیکھوانی برادران کے حالات زندگی علیحدہ طور پر شائع کئے جارہے ہیں لہذا اس کتاب میں سیکھوانی برادران کے بارہ میں اسی پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔OO