حیات شمس — Page 476
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس سید نا حضرت مصلح موعود فرمایا: 460 حضرت مرزا صاحب پر ایک پادری نے قتل کا مقدمہ دائر کرایا اور بیان کیا کہ میرے قتل کیلئے آپ نے ایک آدمی کو بھیجا ہے۔اس زمانہ میں گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن ڈگلس تھے جو بڑے متعصب خیال کئے جاتے تھے۔چنانچہ وہ جب اس ضلع میں آئے تو معلوم ہوا کہ انہوں نے اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ یہ شخص ہمارے مذہب کی اتنے عرصہ سے مخالفت کر رہا ہے، ابھی تک اسے کوئی سزا کیوں نہیں دی گئی۔ایسا انسان ڈپٹی کمشنر تھا، ایک پادری کی طرف سے مقدمہ دائر تھا، جس میں پادری کی طرف سے گواہی دینے کیلئے مولوی محمد حسین صاحب گئے۔ان کا خیال تھا کہ پولیس مرزا صاحب کو گرفتار کر کے لائے گی اور وہ ذلیل حالت میں عدالت کے روبرو کھڑے کئے جائیں گے، جنہیں میں دیکھوں گا مگر وہی دشمن انگریز افسر جواب تک زندہ ہے، اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ آپ کو دیکھ کر اس پر ایسا رعب طاری ہوا کہ اس نے آپ کو بیٹھنے کیلئے کرسی پیش کی۔یہ حالت دیکھ کر مولوی محمد حسین صاحب غصہ سے جل بھن گئے اور آگے بڑھ کر کہنے لگے مجھے بھی کرسی ملنی چاہئے مگر عدالت نے انکار کر دیا۔اس پر انہوں نے اصرار کیا تو عدالت نے کہا۔بک بک مت کر پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو جا۔اس پر وہ باہر آگئے وہاں ایک کرسی پڑی تھی، اس پر بیٹھ گئے۔مشہور ہے کہ جس پر آقا ناراض ہو نو کر بھی ناراض ہوتے ہیں۔چپڑاسی نے یہ خیال کر کے کہ اگر صاحب نے دیکھ لیا تو مجھ پر ناراض ہوگا، انہیں کرسی سے اٹھا دیا۔اس کے بعد ایک چادر پر کچھ مسلمان بیٹھے تھے ، مولوی صاحب اس پر جا بیٹھے لیکن چادر والے نے یہ کہتے ہوئے کہ جو شخص ایک مسلمان کے خلاف گواہی دینے آئے ، میں اس سے اپنی چادر پلید کرانا نہیں چاہتا ، چادر کھینچ لی۔وہ کیپٹن ڈگلس جو بعد میں کرنل ہو گیا تھا، آج بھی زندہ موجود ہے اور شہادت دیتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی شکل دیکھتے ہی مجھ پر حقیقت حال منکشف ہو گئی۔ان کے H۔V۔C ملک غلام حیدر صاحب اس وقت راولپنڈی میں زندہ موجود ہیں۔ان کے ایک لڑکے ملک عطاء اللہ صاحب ای اے سی غالباً یہاں بھی رہے ہیں۔وہ خود سناتے ہیں کہ صاحب بٹالہ میں مقدمہ کی سماعت کرنے کے بعد جب شیشن