حیات شمس

by Other Authors

Page 477 of 748

حیات شمس — Page 477

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس پر واپس آیا تو بے قراری کے ساتھ پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگا۔میں نے کہا۔ویٹنگ روم میں تشریف رکھیئے۔مگر اس نے کہا نہیں تم جاؤ۔پھر دیکھا کہ وہ کچھ گھبرایا سا پھرتا ہے۔میں پھر گیا اور جا کر کہا تو اس نے جواب دیا نہیں تم جاؤ میری طبیعت خراب ہے اور ٹہلتا رہا۔پھر مجھے کہا کہ دیکھو میں پاگل ہو جاؤں گا۔میں جس طرف جاتا ہوں مرزا صاحب کی رُوح سامنے آتی ہے جو کہتی ہے کہ مجھ پر الزام جھوٹا ہے اور مرزا صاحب کو دیکھتے ہی مجھے یقین ہو گیا ہے۔میں نے کہا آپ سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس کو بلا کر مشورہ کرلیں جو انگریز تھے۔461 چنانچہ ان کو مشورہ کیلئے بلایا گیا اور جب وہ آئے تو ڈگلس صاحب نے ان سے کہا کہ مجھے کچھ جنون سا ہو رہا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ مرزا صاحب بے گناہ ہیں، اب کیا کیا جائے۔سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ گواہ کو عیسائیوں کے قبضہ سے نکال کر اس سے اصل حقیقت دریافت کرنی چاہئے۔ڈپٹی کمشنر نے اسی وقت حکم لکھا کہ وعدہ معاف گواہ پولیس کے حوالہ کیا جائے۔چنانچہ اسے منگوا کر جب سپرنٹنڈنٹ صاحب نے دریافت کیا تو پہلے تو اس نے وہی قصہ دہرا دیا جو اسے یاد کرایا گیا تھا مگر جب اسے یقین دلایا گیا کہ ڈرو نہیں اب تمہیں عیسائیوں کے حوالہ نہیں کیا جائے گا۔تو وہ چیخ مار کر پاؤں پر گر پڑا اور کہا کہ یہ سب جھوٹ ہے عیسائیوں نے قتل کی دھمکی دے کر مجھ سے یہ شہادت دلوائی ہے وگر نہ حضرت مرزا صاحب کے جن مریدوں کا ذکر گواہی میں ہے مجھے تو ان کے نام بھی یاد نہیں ہیں وہ میری تھیلی پر لکھ کر مجھے عدالت میں بھیجتے ہیں۔یہ سارا واقعہ سپر نٹنڈنٹ پولیس نے ڈپٹی کمشنر سے بیان کر دیا جس نے اگلی ہی پیشی پر مقدمہ خارج کر دیا حالانکہ دعویٰ کرنے والوں میں بڑے بڑے پادری شامل تھے۔ایک پادری وارث الدین تھے جو عیسائیوں میں بہت معزز سمجھے جاتے تھے۔چنانچہ پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی نے ان کے نام پر ایک وارث فونٹین پین ایجاد کیا جسے ہمارے بعض مسلمان نوجوان بھی نہایت شوق سے خریدتے ہیں، محض اس وجہ سے کہ وہ کچھ سستا ملتا ہے۔ڈگلس صاحب نے مرزا صاحب کو یہ بھی کہا کہ آپ ان پر نالش کر سکتے ہیں مگر آپ نے جواب دیا کہ مجھے کسی پر مقدمہ کرنے کی ضرورت نہیں میرے لئے یہ کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت کے ساتھ بری کر دیا۔میں جب ولایت میں گیا تو ڈگلس صاحب کو بھی ملاقات کیلئے بلایا۔انہوں نے سنایا کہ آج