حیات شمس — Page 471
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 27 نومبر کو میں نے اس خط کے جواب میں لکھا۔اگر سینٹ پال کا یہی مقصد تھا کہ عورتیں پردہ کریں تو بچے پیروکار کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کرے۔ورنہ وہی سوال اٹھیں گے جو میں پہلے خط میں لکھ چکا ہوں۔اور یہ کہنا کہ سینٹ پال کا یہ حکم صرف ان عورتوں کیلئے تھا جو نماز پڑھا ئیں نہ کہ عام عورتوں کیلئے صحیح نہیں ہے کیونکہ اس نے اس خط میں اس امر کی تصریح کی ہے کہ عورتوں کو چرچ میں بولنے تک کی بھی اجازت نہیں ہے اور یہ کہ اگر وہ کوئی سوال بھی دریافت کرنا چاہیں تو انہیں گھر میں اپنے خاوندوں سے پوچھنا چاہئے۔نیز وہ لکھتا ہے کہ جو باتیں میں لکھ رہا ہوں وہ میچ کے اقوال ہیں اور تیمتھیس باب 1 میں لکھتا ہے: عورت کو چپ چاپ کمال تابعداری سے سیکھنا چاہئے اور میں اجازت نہیں دیتا کہ عورت سکھائے ، یا مرد پر حکم چلائے ، بلکہ چپ چاپ رہے کیونکہ پہلے آدم بنایا گیا اس کے بعد حوا۔اور آدم نے فریب نہیں کھایا بلکہ عورت فریب کھا کر گناہ میں پڑ گئی۔“ پھر یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اگر کوئی عورت اپنے خداوند کے حکم کے ماتحت عبادت کے وقت سر پر ہیٹ نہیں رکھ سکتی تو اس سے یہ توقع کیونکر کی جاسکتی ہے کہ اگر اسے ننگے سر گر جا میں داخل ہونیکی اجازت دی جائے تو وہ عاجزی اور سنجیدگی سے دعا کریگی۔میرے نزدیک اصل وجہ گرجوں کی بے آبادی کی یہ ہے کہ ان کے دلوں میں عیسائیت کی صداقت پر ایمان نہیں رہا۔آرچ بشپ آف کینٹر بری کے چیپن نے 2 دسمبر 1942ء کو اس خط کا یہ جواب دیا کہ آرچ بشپ اپنے پہلے جواب پر کوئی زیادتی نہیں کرنا چاہتے اور کثرت خطوط کی وجہ سے وہ تمام خطوط کا تفصیلی جواب نہیں دے سکتے۔اب ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر آرچ بشپ آف کینٹر بری کے پاس میرے سوالات کا کوئی معقول جواب ہوتا تو وہ میرے خط کو بھی ان چند خطوط میں شمار کر سکتے تھے جن کے وہ تفصیلی جواب دیتے 455 ہیں لیکن انہوں نے کثرت مشاغل کا عذر رکھ کر اس مسئلہ کو ٹالنے ہی میں مصلحت سمجھی۔پرائیویٹ خط وکتابت کے علاوہ اخبارات میں بھی مضامین دیئے جاتے ہیں۔اخبارات کے نمائندے بھی بعض وقت دار التبلیغ میں آتے ہیں اور اسلام کے متعلق بعض معلومات حاصل کر کے اپنے اخبارات کو بغرض اشاعت بھیجتے ہیں۔اسی طرح کبھی کبھی نو مسلموں کے کوائف بھی شائع کرتے ہیں اور اخبارات میں شائع شدہ مضامین سے ان غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا مقصود ہوتا ہے جو یورپ میں اسلام کی