حیات شمس

by Other Authors

Page 470 of 748

حیات شمس — Page 470

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس اس موقع پر میں نے آرچ بشپ آف کینٹر بری سے مؤرخہ 14 نومبر 1942ء کو بذریعہ خط چند سوالات کئے۔میں نے لکھا کہ آپ کا اعلان یقیناً سینٹ پال کے حکم مندرجہ 1 کرنتھیوں باب 11 کے خلاف ہے اس لئے کیا میں آپ سے مندرجہ ذیل سوالات کر سکتا ہوں ؟ 1۔کیا جو احکام اور قوانین نئے عہد نامہ میں مذکور ہیں وہ منسوخ ہو سکتے ہیں؟ 2۔اگر ہو سکتے ہیں تو ان کی تنسیخ کا حق کسے حاصل ہے؟ کیا نازیوں نے بھی اسی طرح انجیل کے احکام کو منسوخ نہیں کیا تھا؟ 3۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ شاگردان مسیح کے خطوط میں مندرجہ احکام و ہدایات صرف مخاطبین کیلئے تھے یا تمام لوگوں اور تمام زمانوں کیلئے ؟ اگر آخری بات درست ہے تو پھر ان میں سے کسی کو منسوخ کردینا یقیناً چرچ کے عقیدہ کے مخالف ہوگا جبکہ سینٹ پال نے صاف کہا ہے تم میرے پیرو بنو جیسے میں مسیح کا پیرو ہوں اور ان احکام پر پوری طرح عمل کرو جو میں نے تمہیں لکھے ہیں۔4۔سینٹ پال نے اس حکم کی یہ وجہ بیان کی ہے۔ہر مرد کا سریح اور عورت کا سر مرداور مسیح کا سر خدا ہے۔جو مرد سر ڈھنکے ہوئے دعایا نبوت کرتا ہے وہ اپنے سر کو بے حرمت کرتا ہے اور جو عورت بے سر ڈھنکے دعا یا نبوت کرتی ہے وہ اپنے سرکو بے حرمت کرتی ہے۔البتہ مردکو اپنا سر ڈھانکنا نہ چاہئے کیونکہ وہ خدا کی صورت اور اس کا جلال ہے۔مگر عورت مرد کا جلال ہے اس لئے کہ مرد عورت سے نہیں بلکہ عورت مرد سے ہے اور مرد عورت کیلئے نہیں بلکہ عورت مرد کیلئے پیدا ہوئی“۔(1 کرنتھیوں باب 11 آیات 3 تا9) عورت کے چرچ میں سر ڈھانکنے کے جو وجوہ سینٹ پال نے بیان کئے ہیں وہ اگر درست ہیں تو پھر یہ حکم کیونکر باطل ہوسکتا ہے؟ ور نہ ماننا پڑیگا کہ بواعث حکم بھی غلط اور باطل ہیں۔5۔آپ کے اعلان کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا یہ موجب اعتراض ہوگا اگر مرد چرچ میں اپنے سروں پر ہیٹ رکھ کر جانا شروع کر دیں؟ آرچ بشپ آف کینٹر بری کی طرف سے چپلن اے وائٹ ٹامسن نے 19 نومبر کو مجھے لکھا کہ آرچ بشپ کو آپ کا خط مل گیا ہے لیکن کثرت مشاغل کی وجہ سے وہ خود ذاتی طور پر نہ ہر شخص کو خط لکھتے ہیں اور نہ سوالات کے تفصیلی جوابات دے سکتے ہیں اور ان کے نزدیک گرجا میں عورتوں کے ہیٹ پہن کر جانے سے سینٹ پال کی مرادان عورتوں سے تھی جو نماز پڑھاتی تھیں۔454