حیات شمس

by Other Authors

Page 472 of 748

حیات شمس — Page 472

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 456 نسبت پھیلائی گئی ہیں۔جو لوگ اسلام کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے خواہشمند ہوں انہیں بعض ایسی کتب دیجاتی ہیں جن میں اسلامی تعلیم کی خوبیاں اور اس کی برتری بیان کی گئی ہے۔اس وقت تک کئی کتب اور لکھوکھا کی تعداد میں پمفلٹ لندن مشن کی طرف سے شائع کئے جاچکے ہیں۔۔ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو بینظیر ترقی بخشی ہے۔لندن مشن کے دار التبلیغ میں خیر مقدم کی تقریبات پر لارڈز اور بڑے بڑے اراکین تشریف لاتے ہیں۔مثال کے طور پر اس تقریب کا ذکر کرتا ہوں جس کا انتظام میں نے 1939ء میں امیر فیصل وائسرائے آف مکہ اور فلسطین کانفرنس کے دوسرے مند و بین کو خوش آمدید کہنے کیلئے کیا تھا۔اس موقع پر یمن، شام، فلسطین اور عرب وغیرہ کے زعماء کے علاوہ لندن کے اکابر، ریٹائرڈ آفیسرز، مختلف حکومتوں کے چھ سفیر، پارلیمنٹ کے ممبر ، دس نائٹ اور انگلستان اور دیگر ممالک کے دوسرے بڑے بڑے عہدیدار اور اہل مناصب تشریف لائے تھے۔اس سے بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے کہ اب خدا کے فضل سے ہمارے مشن کو ایک بین الاقوامی شہرت اور تعارف حاصل ہو چکا ہے۔نومسلموں کا اخلاص مسجد میں بعض وقت انگریز نو مسلم اذان دیتے ہیں اور اشهد ان لا اله الا اللہ اور محمدا رسول الله کی آواز بلند کرتے ہیں۔عربی زبان میں نماز پڑھتے ہیں اور بعض قرآن مجید کو عربی زبان میں پڑھنا سیکھتے ہیں اور حسب توفیق چندوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔چنانچہ 1945ء میں احمدیہ جماعت لنڈن نے مختلف مدات مثلاً چندہ عام، چندہ تراجم القرآن ، زکوۃ، چندہ برائے تعلیم الاسلام کالج، عید فنڈ، چندہ برائے مسجد سیرالیون ، چندہ تحریک جدید اور دیگر تحریکوں میں کل 445 پونڈ 12 شلنگ 3 پینس یعنی 6 ہزار روپیہ کے قریب چندہ دیا۔وہ لوگ جو اس مقدس جماعت میں ابھی تک شامل نہیں ہوئے غور کریں کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتے تو وہ ان کی ایسی نصرت کیوں فرما تا۔آج دنیا کے مختلف ممالک میں آپ کے خدام تبلیغ اسلام کر رہے ہیں اور صرف یورپ میں اٹلی، فرانس، سپین، سوئٹزر لینڈ اور انگلستان میں منشن قائم ہیں۔آپ کی جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ کام کر رہی ہے جو دنیا کے تمام مسلمان مجموعی لحاظ سے بھی نہیں کر سکے۔اس حالت پر غور کرو جبکہ آپ نے ازالہ اوہام میں مغرب میں تبلیغ اسلام کے متعلق اپنا رو یا لکھا۔اس زمانہ میں آپ کے مرید ایک ہزار بھی نہ ہوں گے لیکن اس وقت آپ نے تحریر فرمایا کہ آپ کی تعلیم انگلستان میں پھیلے گی اور راستباز انگریز صداقت کا شکار ہوں گے۔کیا اس وقت کسی ظاہر پرست کے خیال میں یہ آسکتا تھا کہ آپ کی جماعت اس قدر ترقی کرے گی کہ دنیا کے مادی سنٹر میں اسلامی مرکز قائم کرے گی اور تثلیث کے مرکز میں مسجد