حیات شمس — Page 469
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 453 سفاکوں کا مقابلہ کیا جائے تا وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچیں۔مسیح کے ان اقوال کی موجودگی میں کسی عیسائی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دفاعی جنگ کو قابل اعتراض ٹھہرائے۔میری ان تصریحات کو سن کر وہ عیسائی بھی خوش ہوتے تھے جو ہٹلر کے خلاف جنگ کی حمایت میں تھے۔ایسی باتیں تو اور بھی بہت سی ہیں جو یہاں بیان کی جاسکتی ہیں لیکن طوالت کا خوف مانع ہے۔تبلیغ بذریعہ تحریر تحریری تبلیغ بھی کئی انواع کی ہے۔مثلاً تبلیغی خطوط ، یعنی وہ خطوط جن میں اسلام کی تعلیم کی خوبیاں لکھی جاتی ہیں یا سوالات کے جوابات دیئے جاتے ہیں یا عیسائی دینی لیڈروں سے سوالات کئے جاتے ہیں۔اس ضمن میں یہ ذکر کرنا غیر مناسب نہ ہوگا کہ میں نے خود بادشاہوں اور مشہور وزراء اور لیڈروں کو بھی تبلیغی خطوط لکھے اور انہیں کتب بطور تحفہ بھیجیں۔شہنشاہ معظم جارج ہفتم کو بھی تبلیغی خط لکھا اور ملکہ ہالینڈ کو بھی اور شاہ ناروے اور کنگ پیٹر آف یوگوسلاویہ کو بھی خطوط لکھے جنہوں نے کتب کے ہدیہ کو قبول کرتے ہوئے شکریہ کے خطوط بھیجے۔اسی طرح فیلڈ مارشل سمٹس وزیر اعظم جنوبی افریقہ، مسٹر کنگ پرائم منسٹر آف کینیڈا، پرائم منسٹر آسٹریلیا اور پرائم منسٹر نیوزی لینڈ کو بھی خطوط لکھے اور کتب بھیجیں جو انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیں۔یونائیٹڈ نیشنز کی جنرل اسمبلی کا جو اجلاس اس سال لنڈن میں ہوا اس میں شامل ہونے والے ایک سو پچاس نمائندوں کو بھی لٹریچر بھیجا گیا۔آرچ بشپ آف کمینٹر بری سے خط و کتابت اس جگہ بطور مثال نہایت اختصار کے ساتھ اس خط و کتابت کا ذکر کرتا ہوں جو میرے اور آرچ بشپ آف کینٹر بری کے درمیان ہوئی۔7 نومبر 1942ء کولنڈن پریس میں آرچ بشپ آف کینٹر بری اور آرچ بشپ آف یارک کا متفقہ اعلان شائع ہوا کہ یہ قدیم رسم کہ عورتیں چرچ میں ننگے سر داخل نہ ہوں سینٹ پال کا حکم ہے اور یہ حکم متقاضی ہے کہ عورتیں پردہ کریں لیکن پردہ کا استعمال مدت ہوئی متروک ہو چکا ہے لہذا بشپوں کے مشورہ کے بعد ہم یہ اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی عورت اور لڑ کی چرچ میں ننگے سر داخل ہونے سے نہ ہچکچائے اور نہ اسکے متعلق اعتراض کیا جائے۔(ٹائمنر )۔