حیات شمس

by Other Authors

Page 468 of 748

حیات شمس — Page 468

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 452 چاہئے اور تیرے ایسا کر نیکا نتیجہ یہ ہوگا کہ آخر کار تیرا دشمن تیرا گہرا دوست ہو جائیگا۔اسلام نے جنگ کی اجازت صرف دفاعی صورت میں دی ہے اور غرض یہ بتائی ہے کہ اگر دفاع کی اجازت نہ دیجاتی تو تمام اہل مذاہب کے معبد، گرجے ، مندر اور مساجد وغیرہ گرا دیئے جاتے اور یہی بات سچی ہے۔آج اگر عیسائیت کی تعلیم پر عمل کر کے ہٹلر کا مقابلہ نہ کیا جاتا تو سب جگہ ہٹلر ہی کا راج ہوتا۔مگر آج تمام مہذب اقوام جو ہٹلر اور نازیوں کا مقابلہ کر رہی ہیں سب بزبان حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت اور آپ کی عظمت کا اقرار کر رہی ہیں اور آپ ہی کی تعلیم کو صحیح اور قابل عمل قرار دے رہی ہیں اور عیسائیت کی تعلیم کے ناقص ہونے کا ثبوت پیش کر رہی ہیں۔پھر میں نے بتایا کہ انجیل کی رو سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کفار کے مقابلہ میں تلوار اٹھانا جائز تھا۔جب یسوع کو یہود پکڑ کر لیجانے لگے اور پطرس نے سردار کا ہن کے نوکر کا آہنی تلوار سے کان اڑا دیا تو ” یسوع نے اس سے کہا اپنی تلوار کو میان میں کر لے کیونکہ جو تلوار کھینچتے ہیں وہ سب تلوار سے ہلاک کئے جائیں گے۔“ (انجیل متی باب 26 آیت 53) اگر دفاعی جنگ کی بھی اجازت نہ ہو تو ظالمانہ طور پر تلوار اٹھانیوالے کیونکر تلوار سے ہلاک کئے جاسکتے ہیں؟ وہ تو سب کو تہ تیغ کر ڈالیں گے۔پس مسیح کے اس قول سے صاف ظاہر ہے کہ دفاعی جنگ جائز ہے اور اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ مسیح کے اس قول کی صداقت ثابت کر دی۔مسیح نے آسمانی بادشاہت کی تمثیل ایک ایسے بادشاہ سے دی ہے جس نے اپنے بیٹے کی شادی کی اور اپنے نوکروں کو بھیجا کہ وہ مدعوین کو بلا لا ئیں مگر انہوں نے آنا نہ چاہا۔پھر اس نے اور نوکروں کو یہ کہہ کر بھیجا کہ بلائے ہوؤں سے کہو کہ دیکھو میں نے ضیافت تیار کر لی ہے میرے بیل اور موٹے موٹے جانور ذبح ہو چکے ہیں اور سب کچھ تیار ہے شادی میں آؤ۔مگر وہ بے پروائی کر کے چل دیئے۔کوئی اپنے کھیت کو کوئی اپنی سوداگری کو اور باقیوں نے اس کے نوکروں کو پکڑ کر بے عزت کیا اور مار ڈالا۔بادشاہ کو غصہ آیا اس نے اپنا لشکر بھیج کر ان خوبیوں کو ہلاک کر دیا اور ان کا شہر پھونک دیا۔(دیکھیں انجیل متی باب 22 آیات 1-8) اس تمثیل میں بادشاہ خدا کا قائم مقام ہے اور یہ تمثیل صاف طور پر بتاتی ہے کہ ظالم سے بدلہ لینا جائز ہے۔بعینہ یہی بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت ہوئی۔خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ مائدہ آسمانی کی طرف دعوت دی لیکن مخالفین نے انکار تک ہی بس نہ کی ، بلکہ اس مائدہ آسمانی کی طرف بلانے والوں کو تہ تیغ کیا۔تب خدا تعالیٰ نے اپنے نبی کو اجازت دی کہ ان ظالموں اور