حیات شمس — Page 458
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس لندن میں تبلیغی مشن کا قیام 442 مذکورہ بالا بیان سے ظاہر ہے کہ آپ کا دل اس یقین سے پر تھا کہ آخر اسلام کی فتح ہوگی اور عیسائیت مغلوب ہوگی۔آپ کو یورپ میں تبلیغی مشن کھولنے کا بہت شوق تھا اور اس امر کا آپ نے ایک دفعہ ارادہ بھی ظاہر فرمایا چنانچہ میاں سر فضل حسین مرحوم جب 1927ء میں لندن گئے اور جماعت احمد یہ لندن نے 24 اگست 1927 ء کو ان کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا تو آپ نے اسکا جواب دیتے ہوئے فرمایا : مغرب میں تبلیغ اسلام کا خیال بانی جماعت احمدیہ کا پیدا کردہ ہے۔تمہیں سال کا عرصہ ہوا جب آپ نے خواجہ کمال الدین صاحب سے بالواسطہ دریافت فرمایا کہ کیا وہ یورپ میں تبلیغ اسلام کیلئے جاسکتے ہیں؟ لیکن انہوں نے قانونی پریکٹس شروع کر دی اور اس وقت اسلام کی اشاعت کیلئے اپنے آپ کو وقف نہ کر سکے (ریویو آف ریلیجنز قادیان اکتوبر 1927ء) لیکن یہی شخص جو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش کو پورا نہ کر سکا، آخر کار حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ایک مقدمہ کے سلسلہ میں لندن گیا اور پھر تبلیغ اسلام کیلئے وہیں رہ پڑا اور تبلیغ کا کام شروع کیا لیکن تھوڑے مدت کے بعد اس خیال سے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کو پیش کیا گیا تو دوسرے مسلمانوں کی امداد سے محروم ہو جائیگا اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کو پیش کرنا چھوڑ دیا جنہیں خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں اشاعت اسلام کیلئے بھیجا تھا اور اس کے اور اس کے متبعین سے احیاء اسلام کو وابستہ کر دیا تھا۔1914ء میں جب حضرت خلیفہ اول وفات پاگئے اور جماعت نے حضرت امیر المؤمنین خلیفہ المسح الثانی کوخلیفہ منتخب کرلیا تو خواجہ کمال الدین صاحب غیر مبائعین کے ساتھ مل گئے اس لئے جماعت احمد یہ قادیان نے اپنا مشن ان سے علیحدہ کر لیا۔1924ء میں حضرت امیر المؤمنین خلیفتہ اسیح الثانی ایک مذہبی کانفرنس میں شمولیت کیلئے لنڈن تشریف لے گئے۔وہاں آپ نے اسلام کی خوبیوں پر ایک لیکچر دیا جو بعد میں کتابی شکل میں زیر عنوان احمدیت یعنی حقیقی اسلام اردو زبان میں اور زیر عنوان Ahmadiyyator True Islam بزبان انگریزی شائع ہوا۔اس کتاب میں آپ نے زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق اسلامی تعلیم کو نہایت احسن اور دلکش پیرایہ میں بیان کیا ہے جس سے انگریزوں کا پڑھا لکھا طبقہ بے حد متاثر ہوا اور انہیں اسلام کے متعلق مزید تحقیق کا شوق پیدا ہوا۔