حیات شمس

by Other Authors

Page 459 of 748

حیات شمس — Page 459

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 443 اثناء قیام لندن میں حضور نے احمدیہ مسجد فضل لندن کا سنگ بنیاد رکھا۔اس مسجد کا افتتاح۔۔۔۔۔۔اکتوبر 1926ء میں ہوا۔لندن جیسے شہر میں جو عیسائیت کا مرکز ہے احمد یہ مسجد کا بننا کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے عیسائیوں کے قلوب میں بے چینی پیدا نہ ہوتی۔چنانچہ دی ہیپیٹسٹ ٹائمنز نے مسجد کے افتتاح پر لکھا: "The coming of the mosque may be regarded as a challenge۔The west has been trying to convert the East and unhappily has not maintained its strength at home۔Now the East is looking to the West, and the Muslims' call to prayer will be heard in this land۔" یعنی ” اس مسجد کی عمارت کو ہمیں ایک چیلنج سمجھنا چاہئے۔مغرب مشرق کو عیسائی بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے لیکن بد قسمتی سے خود اپنے گھر میں اپنی طاقت کو قائم نہیں رکھ سکا۔اب مشرق مغرب کی طرف توجہ کر رہا ہے اور نماز کیلئے مسلمانوں کی اذان یہاں سنائی دیگی۔مسجد کا لنڈن کے قلب میں دکھائی دینا پادریوں کیلئے ایک پریشان کن چیز تھی۔بہر حال اس وقت سے تبلیغی کام پہلے سے زیادہ مؤثر رنگ میں شروع ہوا۔1936ء میں مجھے حضور نے لنڈن بھیجا۔پہلے دو سال میں وہاں بطور نائب امام مسجد لنڈن کام کرتا رہا۔1938ء میں میں نے مشن اور مسجد کا چارج لیا اور اگست 1946 ء تک بطور امام مسجد کام کرتا رہا۔اب میں مختصر طور پر لندن مشن کے طریق کار کے متعلق لکھتا ہوں۔ہمارے وسائل تبلیغ اس مشن کا مقصد اعظم مخالفین اسلام کے اعتراضات وشبہات کا ازالہ اور اسلام کو اس کے اصلی رنگ میں پیش کرنا ہے اس غرض کیلئے ہر ممکن ذریعہ اختیار کیا جاتا ہے اور ان ذرائع کو دو بڑے عنوانوں کے ماتحت لایا جا سکتا ہے یعنی ایک تقریری اور دوسرا تحریری۔نومسلموں کے معلومات میں اضافہ اور غیر مسلموں کو تبلیغ کرنے کیلئے دار التبلیغ لنڈن میں حسب حالات ہفتہ واری یا پندرہ روزہ جلسے کئے جاتے ہیں جن میں عام طور پر اسلامی مسائل پر لیکچر دیئے جاتے ہیں۔اسلام کے تمدنی قوانین۔سوانح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی تعلیم ، اسلام اور سائنس، ملائکہ کی ہستی کا ثبوت، اسلام اور عیسائیت اور کامل الہامی کتاب وغیرہ موضوعوں پر لیکچر ہوتے ہیں۔لیکچروں کے اختتام پر سوالات کا موقع دیا جاتا ہے۔بعض وقت سیرۃ النبی کا جلسہ کیا جاتا ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض نکتہ چینیوں کا جواب دیا جاتا ہے۔اس تقریب پر پادریوں سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی