حیات شمس — Page 457
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 441 امریکہ میں تبلیغ اسلام کی غرض سے 1902 ء میں ماہوار انگریزی رساله ریویو آف ریلیجـنـز جاری کیا۔مزید برآں آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنی پیشگوئیوں کے ذریعہ تبلیغ اسلام کے دو ایک تاریک و تار مستقبل کو ایک روشن مستقبل میں تبدیل کر دیا۔آپ نے فرمایا: طلوع نٹس کا جو مغرب کی طرف سے ہوگا، ہم اس پر بہر حال ایمان لاتے ہیں لیکن اس عاجز پر جو ایک رؤیا میں ظاہر کیا گیا وہ یہ ہے جو مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی جو قدیم سے ظلمت کفر وضلالت میں ہیں آفتاب صداقت سے منور کئے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔پھر اپنے ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” میں نے دیکھا کہ میں شہر لنڈن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے رنگ سفید تھے اور شاید تیتر کے جسم کے موافق ان کا جسم ہوگا۔سو میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اگر چہ میں نہیں مگر میری تحریر میں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راستباز انگریز صداقت کا شکار ہوجائیں گے۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد سوم صفحہ 376-377) نیر آپ نے فرمایا : وو وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو بچے خدا کا پتہ لگے گا۔“ [ اشتہار 14 جنوری 1897ء۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 304] اسی طرح جب حضرت مفتی صاحب نے حضرت اقدس علیہ السلام کو لندن کے جھوٹے مسیح پکٹ کے دو نوٹس ( جو اس نے مفتی صاحب موصوف کو ان کے خط کے جواب میں بھیجے تھے ) پڑھ کر سنائے تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: معقول باتوں کی قدر ہوتی ہے اور وہ رہ جاتی ہیں لیکن جاہلانہ باتوں کی رونق دو تین سطروں میں جاتی رہتی ہے۔جھوٹے نبیوں اور مسیحوں کا قدم پہلے لندن میں رکھا گیا اور سچے مسیح کی آواز اس کے بعد لندن میں پہنچے گی۔“ 66 (الحکم قادیان 17 نومبر 1902ء)