حیات شمس — Page 447
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 431 اس جگہ گزاری اور یہاں مؤثر رنگ میں خدا تعالیٰ نے تبلیغ کا موقعہ عطا فرمایا جس کا اثر یہاں کے کئی اصحاب پر ہوا۔دوسرے دن صبح یہاں سے روانہ ہوکر بیروت پہنچے اور بیروت سے دمشق کیلئے روانہ ہوئے۔اس سفر میں ہمارے ساتھ السید محمد الھنی تھے جو کرم منیر الحصنی صاحب کے بڑے بھائی ہیں اور بیروت میں تاجر ہیں۔مورخہ 26 ستمبر شش صاحب اور مکرم اسید منیر احصنی پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ دمشق قادیان کیلئے روانہ ہوئے۔دوست الوداع کیلئے حاضر تھے انہوں نے درد بھری دعاؤں سے ان ہر دو معز ز صاحبان کو فی امان اللہ کہا۔پروگرام کے مطابق دمشق سے بغداد انہیں چوبیس گھنٹے میں پہنچ جانا چاہیے تھا مگر موٹر راستہ میں خراب ہو کر آٹھ گھنٹے لیٹ ہوگئی۔مکرم الحاج عبد اللطیف نور محمد صاحب کو عاجز نے بذریعہ تاران کی آمد کی اطلاع دی تھی۔بغداد کی آمدہ اطلاعات سے معلوم ہوا کہ مکرم شمس صاحب کو سید توفیق السویدی سابق وزیر اعظم عراق سے ملاقات کا موقع ملا اور ریجیٹ سمو الا میں عبد الالہ سے بھی آپ نے ملاقات کی۔الجمعية الهندية نے آپ کے اعزاز میں ٹی پاڑی بھی دی جس میں ساٹھ سے زائد اشخاص شامل تھے۔اسی طرح الشبان المسلمین کی مجلس میں جا کر آپ کو دو گھنٹہ کے قریب گفتگو کا بھی موقعہ ملا اور ان پر نہایت ہی اچھا اثر ہوا اور آپ کی ملاقات سے بہت خوش ہوئے۔شمس صاحب کی ان مصروفیات کا ذکر بغداد کے مشہور جریدہ البلاد نے کرتے ہوئے آپ کی خدمات کو سراہا ہے۔میں اس موقعہ پر مکرم الحاج عبد اللطیف نورمحمد صاحب کا شکریہ ادا کرنا اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔سلسلہ کے جن خدام کو بغداد کے راستہ سے گذرنے کا اتفاق ہوا وہ جانتے ہیں کہ حاجی صاحب آرام پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔عاجز کو آپ کی وجہ سے شام کا ویزہ بڑی آسانی سے مل گیا۔مکرم منیر الھنی صاحب نے جو خط مجھے بغداد سے روانہ کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مکرم حاجی صاحب کی وجہ سے ان ہر دو معزز صاحبان کو بڑا آرام ملا۔اسی طرح مکرم ملک معراج دین صاحب کا وجود بھی یہاں سے گزرنے والوں کیلئے بہت مفید ہے۔اللہ تعالی زیادہ سے زیادہ ان صاحبان کو خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔الفضل قادیان 25 اکتوبر 1946 ء )