حیات شمس — Page 446
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 430 پہلے مبلغ ہیں جن کی وجہ سے ہمیں احمدیت کا علم ہوا اور خدا تعالیٰ نے ہمیں آپ کے ذریعہ قبول احمدیت کی توفیق دی۔مکرم چوہدری محمد شریف صاحب فاضل نے آپ کی خدمات جلیلہ و مساعی جمیلہ کے متعلق ایک مفصل تقریر کی جو نہایت مؤثر تھی۔مکرم شمس صاحب نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جماعت کو مختلف امور کی طرف توجہ دلائی خصوصاً اطاعت امیر اور فریضہ تبلیغ اور چندوں کی ادائیگی کی طرف۔دمشق میں آمد 17 ستمبر کو صبح کے وقت مکرم شمس صاحب السید منیر الحصنی صاحب اور خاکسار دمشق کیلئے روانہ ہوئے۔حکومت شام کی وزارت خارجہ نے مجھے تین مہینے کی تحقیق کے بعد صرف ایک ماہ کیلئے شام میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔چونکہ اصل شام کو حال ہی میں آزادی ملی ہے اور یہاں کے مقامی سیاسی حالات دگرگوں ہیں اس لئے اجنبی آدمی پر خاص نگرانی کی جاتی ہے یہاں کئی ایک سیاسی پارٹیاں ہیں جو اپنا کام کر رہی ہیں۔شام میں ابھی تک حکومت فرانس کی بھی ایک پارٹی ہے۔موجودہ وزارت اس پارٹی پر کڑی نگرانی کر رہی ہے۔حال ہی میں تمیں جاسوسوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ایک پارٹی نے ہاشمی خاندان کے حق میں پرو پیگنڈا کرنا شروع کر دیا ہے اور یہ پرو پیگنڈا بڑی سرعت سے دمشق میں ترقی کر رہا ہے۔حیفا سے دمشق کا راستہ صرف ساڑھے تین گھنٹہ کا ہے مگر آج کل فلسطین کی حدود میں سفر کرنا تکلیف مالا يطاق کے مترادف ہے۔ہماری موٹر مختلف مقامات پر ٹھہرتی ہوئی غروب آفتاب سے قبل دمشق میں پہنچی۔دمشق میں ہمارا قیام مکرم السيد الحاج بدر الدین احصنی کے مکان پر تھاجو کرم منیر الحصنی آفندی کے سب سے چھوٹے بھائی ہیں اور احمدیت کے عشق میں مجذوب نظر آتے ہیں۔مکرم شمس صاحب نے اپنے دمشق کے مختصر قیام میں وزیر اعظم شام اور وزیر خارجہ سے ملاقات کی اور جماعت احمدیت کا پیغام پہنچایا۔اس ملاقات کا ذکر یہاں کی صحافت نے بھی کیا۔اس کے علاوہ آپ نے خلیل مردم بیک اور الحاج عبد القادر مغربی سے بھی ملاقات کی۔یہ دونوں شخصیتیں تمام عرب ملکوں میں علمی لحاظ سے نہایت ہی اہم شخصیتیں ہیں اور ابناء شام ان دونوں شخصیتوں پر ناز اور فخر کرتے ہیں۔23 ستمبر کی صبح کو الشیخ عبدالرحمن کی دعوت پر ان کے گاؤں بر جانامی میں ( یہ جگہ بیروت سے ایک میل کے فاصلہ پر ہے ) گئے۔سب سے پہلے بیروت پہنچتے ہی موٹر کے اڈہ سے برجا کیلئے روانہ ہوئے۔رات