حیات شمس

by Other Authors

Page 374 of 748

حیات شمس — Page 374

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 358 حصول نجات کیلئے دوسرے رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے ویسے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر۔لہذا اصولی طور پر یہ کہنا ہرگز درست نہیں کہ حصول نجات کیلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانا ضروری نہیں البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ ایک عیسائی یا یہودی جو دیانت داری سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دعوئی پر غور کرتا ہے اور باوجود غور و خوض کے اس پر آپ کی صداقت نہیں کھلتی وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک معذور ٹھہر کر عذاب سے بچ جائے۔جواب دیتے ہوئے سپیکر نے صرف یہ کہا کہ یہاں یوسف علی مفسر قرآن اور عرب بھی موجود ہیں وہ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں ہاں تشریحات مختلف ہوا کرتی ہیں اور اسلام کی دو قسمیں بیان کر دیں۔ایک آرتھوڈ کس اسلام اور دوسرے ماڈرن اسلام۔چونکہ سپیکر نے یہ بھی کہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت بند ہے اس پر ایک عیسائی نے سوال کیا کہ یہود نے تو وحی و نبوت کو موسی" پر اور عیسائیوں نے عیسی" پر ختم کر دیا آپ کہتے ہیں وحی و نبوت محمد اللہ پر ختم ہے تو یہ عقیدہ یہودونصاری کے عقیدہ کی طرح ہوا۔اس کا سپیکر نے کوئی جواب نہ دیا۔میٹنگ کے ختم ہونے پر سپیکر نے مجھ سے کہا کہ یہ عرب صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ جس آیت کا آپ نے حوالہ دیا تھا اس میں آیت کا لفظ ہے معجزہ کا نہیں۔میں نے اس عرب سے کہا قرآن مجید میں کہیں بھی معجزہ کا لفظ نہیں صرف آیت کا ہی لفظ ہے مسیح کے معجزات کا جہاں ذکر ہے انہوں نے بھی یہی کہا۔قـــــد جئتكم باية اور پیکر نے جس آیت کو بطور استدلال پیش کیا تھا اس میں بھی الایات کا ہی لفظ ہے۔وہ کوئی جواب نہ دے سکا۔ڈاکٹر الحاج عمر سلیمان میرے ساتھ تھے۔انہوں نے کہا مجھے تو ایسے لیکچر اروں کو سن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی ضرورت ثابت ہوتی ہے۔نیو بری کا سفر ورلڈ کانگرس آف فیتھس کے زیر انتظام دوسرے ممبروں کے ساتھ میر عبدالسلام صاحب اور خاکسار ایسٹر کے ہفتہ و اتوار کیلئے نیو بری گئے تھے جہاں دو روز اجلاس ہوئے مختلف اشخاص نے تقریریں کیں۔سوالات کے موقعہ پر میر عبدالسلام صاحب نے سوالات کئے۔کئی ممبروں سے مختلف مذہبی مسائل پر گفتگو ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی آمد اور مسیح کی صلیبی موت وغیرہ کے متعلق بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔مسٹر پونی ایل ایل ڈی ہنگیرین اور ان کی بیوی سے بھی باتیں ہوئیں وہ بہت متاثر ہوئے۔بعد میں وہ ہماری ایک پندرہ روزہ میٹنگ میں شامل بھی ہوئے اور مجھے ایک روز اپنے مکان پر چائے کی بھی