حیات شمس

by Other Authors

Page 373 of 748

حیات شمس — Page 373

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 357 والوں نے میری تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صحیح طریق یہی ہے کہ انبیاء کی اصل تعلیم کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ایک میٹنگ میں ایک مسلم نمائندہ کا جو یہاں سرکاری عہدہ پر متعین ہیں اسلام کے متعلق لیکچر تھا انہوں نے خاص طور پر اپنے دوستوں کو اطلاع دے کر بلایا ہو ا تھا چنانچہ شیخ حافظ و ہبہ اور ان کے اسٹنٹ بھی حاضر تھے۔عراقی لیگیشن اور ٹرکی لیکیشن کے نمائندے اور مسٹر یوسف علی سابق پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور اور امام مسجد و د کنگ بھی موجود تھے۔مجھے بھی لیکچر میں شامل ہونے کیلئے کہلوا بھیجا تھا۔انہوں نے اسلام کے موضوع پر ایک پرچہ پڑھا جس میں انہوں نے پردہ کے متعلق کہا کہ اسلام میں کوئی پردہ نہیں ہے اور آیت مَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالآیات کا ترجمہ بنا کر کہہ دیا کہ اور انبیاء نے تو معجزے دکھائے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن کے سوا کوئی معجزہ نہیں دکھایا اور آیت إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِيْنَ هَادُوا کا ترجمہ سنا کر کہا کہ نجات کے حصول کیلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری نہیں۔یہودی اور عیسائی وغیرہ بھی اگر خدا اور آخرت پر ایمان رکھیں اور نیک عمل کریں تو وہ نجات پا جائیں گے۔جب سوالات کا وقت آیا تو میں نے ان دونوں باتوں کا ذکر کر کے کہا کہ یہ دونوں باتیں جو سپیکر نے بیان کی ہیں قرآن مجید کی آیات کے صریح خلاف ہیں۔معجزات کے متعلق میں نے سورہ قمر کی پہلی دو آیات پڑھ کر ترجمہ سنایا جن سے ظاہر ہے کہ شق القمر کا نشان مکہ والوں کو دکھایا گیا اور جس آیت کا سپیکر نے حوالہ دیا ہے اس میں خاص نشانات مراد ہیں جو کفار نے طلب کئے تھے۔چنانچہ اس کا نمونہ اسی سورۃ میں بیان کیا گیا ہے اس لئے اس آیت سے یہ ہر گز ثابت نہیں ہوتا کہ آپ نے اور نشانات نہیں دکھائے اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ مرقس نے مسیح کے متعلق لکھا ہے کہ جب فریسیوں نے ان سے نشان مانگا تو انہوں نے جواب دیا کہ انہیں کوئی نشان نہیں دیا جائے گا۔اس وقت انہوں نے نہ کسی گذشتہ نشان کا حوالہ دیا اور نہ آئندہ دکھانے کا وعدہ کیا لیکن اس قول سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ دوسرے اوقات میں انہوں نے نشانات نہیں دکھائے تھے۔اور دوسری بات کے متعلق میں نے آیت إِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا۔۔۔۔أُولئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مهيناً (النساء:151-152) پڑھ کر ترجمہ سنایا کہ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص ایک رسول کا بھی انکار کرتا ہے وہ کافر ہے اور مومن نہیں اور لائق سزا ہے۔پس نجات اس امر پر موقوف ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے اس پر ایمان لایا جائے اور اس کے مطابق عمل کیا جائے۔پس جیسے