حیات شمس — Page 355
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 339 کرنا چاہئے ، جو دیگر مذاہب میں پائی جاتی ہیں۔کیونکہ خوبی خواہ کہیں بھی ہو خوبی ہی رہتی ہے۔دوسرے مذاہب میں کوئی بھی نیکی کی بات نہ دیکھنا محض جہالت اور خود غرضی کے مترادف ہے اور یہ خیال کرنا بالکل جھوٹ ہے گو کہ مذاہب کے اس قدر بڑے نظام میں جس نے صدیوں تک ہمارے لاکھوں خاندانوں کی راہنمائی کی ہے کوئی خوبی نہیں ہے۔6۔باہمی تنازعات اور جھگڑوں کی ایک وجہ یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے متبعین اپنے اپنے مذاہب کی پیروی صرف اس وجہ سے کرتے ہیں کہ ان کے باپ دادا ان مذاہب کے پیرو تھے وبس۔اس لئے انہوں نے حق کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی اور اندھوں کی طرح دوسرے مذاہب کی مخالفت کر کے فساد برپا کرتے ہیں اور در حقیقت ان کا یہی رویہ مذہبی دیوانگی اور تعصب کا سبب ہے جس سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان جنگیں ہوتی ہیں۔اسلام ایسے شخص کے اختیار کے مذہب کو مذہب نہیں مانتا جو صرف آباؤ اجداد کی متابعت میں بغیر سوچے سمجھے اور بغیر دلیل کے اختیار کیا گیا ہو بلکہ ایسے لوگوں کی سخت مذمت کرتا ہے جو بلا سوچے سمجھے کسی مذہب کی پیروی کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اس کی جو اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی ہے وہ کہتے ہیں نہیں ہم تو اس کی پیروی کرتے ہیں جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، خواہ ان کے باپ دادا بالکل عقل سے عاری ہوں اور وہ صراط مستقیم پر چلنے والے نہ ہوں۔“ یہ ایک خطر ناک غلطی ہے کہ ایک آدمی اپنے آباؤ اجداد کے عقائد ہی کی پیروی کرے اور اپنے مذہب کو تبدیل نہ کرے، خواہ دوسرا مذہب مکمل اور اس کے اپنے مذہب سے نہایت اعلیٰ ہی ہو کیونکہ اگر ہم اس نظریہ کو حق بجانب قرار دیں تو یہاں ایک بھی عیسائی، یہودی یا مسلم نظر نہ آتا۔یہ یاد رکھنا چاہئے کہ مکمل مذہبی آزادی اور رواداری کی تعلیم اور دوسرے مذاہب کی خوبیوں کا اقرار جو اسلام نے سکھایا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تمام دوسرے مذاہب کے تمام عقائد کو صحیح اور درست سمجھتا ہے۔کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ مختلف مذاہب کی موجودہ شکل میں بعض ایسے بنیادی اصول موجود ہیں جو خواہ کلیہ نا قابل تطابق نہ ہوں، مگر باہمی اختلاف ضرور رکھتے ہیں۔پس اختلاف کو دور کرنے اور تمام عقائد کے متبعین کے درمیان مکمل اتحاد پیدا کرنے کی غرض سے اسلام ہر شخص کو اپنے مذہب کے عقائد کی اشاعت کی مکمل آزادی دیتا ہے بشرطیکہ وہ دوسروں کے نقائص کو تلاش کرنے کی بجائے اپنے مذہب کی خوبیاں اور اس کے فضائل پبلک کے سامنے پیش کرے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: