حیات شمس — Page 354
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس دی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مت برا کہو ان کو جنہیں وہ (کافر) اللہ کے سوا پکارتے ہیں (خواہ تمہارے عقیدہ کی رو سے نا جائز ہی ہو ) تا ایسا نہ ہو کہ وہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے جہالت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو بُرا بھلا کہیں۔“ 338 یعنی تمہارا اس قسم کا قول اور فعل دوسروں کے جذبات کو مجروح کر دے گا اور یہ ایک مصیبت اور خلفشار کا موجب بنے گا اتنا کہ وہ بھی اپنی باری پر تمہارے رسول ، تمہارے نبی اور تمہارے خالق کو برا کہنے کا حوصلہ کریں گے۔4۔دوسری فساد کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ دوسروں کی عبادت میں ان کی مقدس جگہوں میں حائل ہوتے ہیں اور یہاں تک جرات کرتے ہیں کہ ان کے عبادت خانوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔اسلام نے جو امن کا مذہب ہے عبادت خانوں کے متعلق واضح طور پر فرمایا ہے: اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ کا نا اللہ کے گھروں میں بلند کرنے سے روکتا اور ان کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا۔(البقره:115) پس اسلامی تعلیمات کی رُو سے سب لوگوں کو جو خواہ فاتح ہوں یا مفتوح یہ حق ہے کہ وہ اپنے معبدوں کو پوری آزادی سے استعمال کریں حتی کہ اگر کوئی اپنے طریق پر اللہ کی پرستش کسی اور مذہبی عبادت گاہ میں کرنا چاہے تو اسلام کا حکم یہ ہے کہ اسے بھی نہ روکا جائے کیونکہ معبد ایک ایسی جگہ ہے جو اللہ کے نام اور عبادت سے مخصوص کی گئی ہے، پس وہاں بلالحاظ مذہب و ملت ہر شخص کو عبادت الہی کی اجازت ہونی چاہئے۔پہلا شخص جس نے اس سنہری اصول کو عملی جامہ پہنایا، اسلام کا بانی (صلی اللہ علیہ وسلم ) تھا چنانچہ آپ نے نجران کے عیسائیوں کو اپنی مسجد میں عبادت کرنے کی اجازت دی۔5۔سچائی پر قائم اور مکمل ہونے کے دعوی کے باوجود اسلام تمام موجودہ مذاہب کی خوبیاں تسلیم کرتا ہے بلکہ ان کو بھی مشورہ دیتا ہے کہ وہ تمام غیر مذاہب کی کلیہ تردید کرنے سے باز رہیں اور یہ نصیحت کرتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی خوبیوں کو تسلیم کریں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وہ لوگ جنہیں دوسرے مذاہب میں کوئی بھی خوبی نظر نہیں آتی اور انہیں سرا سر باطل قرار دیتے ہیں، جاہل اور نادان ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے پیرؤوں کو ان خوبیوں کا اقرار