حیات شمس — Page 316
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 300 کی خاطر ایسا حزین و دلفگار ہے کہ گویا تو اپنی جان کو ان کے پیچھے ہلاک کر دے گا۔پس حضور علیہ السلام کی اس قلبی حالت سے جس کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا الفاظ میں کھینچا ہے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اقوام کی ہدایت کیلئے کس سوز و گداز سے دعائیں کی ہوں گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس انتہائی غم و اندوہ کو دیکھ کر اس سورۃ کے بعد کی سورۃ ( مریم ) میں حضرت یحی اور عیسی علیہ السلام کی ولادت کا واقعہ بیان کر کے حضور کو تسلی دی کہ اگر چہ ان اقوام کو جن کا ذکر سورہ کہف میں ہو ا بظاہر ایمان لانا نا ممکن نظر آئے گا لیکن دعاؤں کے نتیجہ میں انہیں بھی اسلام سے بہرہ ور کیا جائے گا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی بھی فرما دی کہ آخر کار اسلام کا سورج مغرب سے طلوع کرے گا اور تمام لوگ اس کا مشاہدہ کریں گے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ان اقوام کی ہدایت کیلئے کثرت سے دعائیں کی ہیں۔چنانچہ حضور کی ایک دعا یہ ہے: ” سواے ہمارے پیارے خدا! ان کو مخلوق پرستی کے اثر سے رہائی بخش اور اپنے وعدوں کو پورا کر جو اس زمانہ کیلئے تیرے تمام نبیوں نے کئے ہیں۔ان کانٹوں میں سے زخمی لوگوں کو باہر نکال اور حقیقی نجات کے سرچشمہ سے ان کو سیراب کر کیونکہ سب نجات تیری مغفرت اور تیری محبت میں ہے۔کسی انسان کے خون میں نجات نہیں۔اے رحیم و کریم خدا ان کی مخلوق پرستی پر بہت زمانہ گزر گیا ہے۔اب ان پر تو رحم کر اور ان کی آنکھیں کھول دے۔اے قادر اور رحیم خدا سب کچھ تیرے ہاتھ میں ہے۔اب تو ان بندوں کو اس اسیری سے رہائی بخش اور صلیب اور خون مسیح کے خیالات سے ان کو بچالے۔اے قادر کریم خدا ان کیلئے میری دعا سن اور آسمان سے ان کے دلوں پر ایک نور نازل کرتاوہ تجھے دیکھ لیں۔کون خیال کر سکتا ہے کہ وہ تجھے دیکھیں گے کس کے ضمیر میں ہے کہ وہ مخلوق پرستی کو چھوڑ دیں گے اور تیری آواز سنیں گے پر اے خدا تو سب کچھ کر سکتا ہے۔تو نوح کے دنوں کی طرح ان کو ہلاک مت کر کہ آخر وہ تیرے بندے ہیں بلکہ ان پر رحم کر اور ان کے دلوں کو سچائی کے قبول کرنے کیلئے کھول دے۔ہر ایک قفل کی تیرے ہاتھ میں کنجی ہے جب کہ تو نے مجھے اس کام کیلئے بھیجا ہے سو میں تیرے مونہہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں نامرادی سے مروں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جو کچھ تو نے اپنی وحی سے مجھے وعدے دیئے ہیں ان وعدوں کو تو ضرور پورا کرے گا کیونکہ تو ہمارا خدا صادق خدا ہے۔اے میرے رحیم خدا اس دنیا میں میرا بہشت کیا ہے؟ بس یہی کہ تیرے بندے مخلوق پرستی سے نجات پا