حیات شمس — Page 315
حیات ٹمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس دونئے احمدی 299 ( حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس) (اگست 1937ء) میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو کس سلسلہ عالیہ احمد یہ میں داخل ہوئے۔ان میں سے ایک انگلش خاتون Miss Elsie ہیں جنہیں ہماری نومسلم بہن مسز بہادری دار التبلیغ میں لائیں۔ان سے آمد حضرت مسیح موعود اور الوہیت مسیح اور واقعہ صلیب وغیرہ امور کے متعلق گفتگو ہوئی اور انہیں تحفہ شہزادہ ویلز کتاب مطالعہ کیلئے دی گئی۔اس کے بعد دو دفعہ ان سے گفتگو ہوئی اور تحفہ شہزادہ ویلیز کے مطالعہ کے وقت جو باتیں قابل دریافت معلوم ہوئیں وہ انہوں نے نوٹ کی ہوئی تھیں، ان کے تسلی بخش جواب پا کر سلسلہ میں داخل ہو گئیں۔دوسرے سید حسین شاہ صاحب ہیں جو سید سردار شاہ صاحب کے والد ہیں۔انہیں چوہدری دولت خان صاحب و چوہدری اکبر علی خان صاحب دار التبلیغ میں لائے۔میں نے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے دلائل اور خصوصیات احمدیت بتا ئیں اور وہ بھی بیعت فارم پر کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔اللہ تعالیٰ دونوں کو استقامت عطا فرمائے۔آمین۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسز بہادری کا اسلامی نام نعیمہ اور مسٹرلطیف آرنلڈ کے بھائی کا نام رشید آرنلڈ اور ان کی والدہ کا نام حلیمہ آرنلڈ اور مسز ایڈورڈز کا نام عائشہ تجویز فرمایا (الفضل قادیان 25 اگست 1937) ہے۔یورپ میں تبلیغ اسلام۔دو نئے احمدی ( حضرت مولانا جلال الدین شمس ) دوسرے مسلمان اگر چہ یورپین اقوام کے اسلام لانے سے مایوس ہو چکے ہیں لیکن ایک سچا احمدی کبھی مایوس نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ایک وقت آئے گا کہ یہ اقوام بھی سچے دل سے مسلمان ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کا ذکر کرتے ہوئے سورۃ کہف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قلبی کیفیت کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے : لَعَلَّكَ باخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ إِنْ لَمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيْثِ أَسَفًا (الكهف:7) کہ اے رسول تو ان اقوام کی ہدایت کا اس قدر خواہاں ہے اور اس درجہ سوز و گداز کا اظہار کرتا اور ان