حیات شمس — Page 272
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 256 قبل یکم فروری 32 ء کو لاہور کے مقام پر سیسل ہوٹل میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا ایک فوری اجلاس محترم صدر مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا۔اس اجلاس میں سید حسن شاہ ایڈووکیٹ ، ملک برکت علی ایڈووکیٹ لاہور، پروفیسر محمد علم الدین سالک، مولانا غلام رسول مہر ، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ، شیخ ارشاد علی ایڈووکیٹ ، مولانا اسماعیل غزنوی ، مولانا غلام رسول مہر، سید زین العابدین ولی اللہ شاہ، خان بہادر سید مقبول شاہ صاحب اور مولانا جلال الدین شمس اور ڈاکٹر محمد عبد الحق بھی شریک ہوئے۔“ اس حوالہ سے واضح ہے کہ مولانا جلال الدین شمس صاحب کشمیر کمیٹی کے مشاہیر کے سنگ سنگ بطور ممبر کشمیر کمیٹی کے شامل اجلاس ہوتے رہے۔اسی کتاب کے صفحہ 230 پر وکلاء کی شاندار خدمات کشمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں : و" ان سب وکلاء کے اخراجات سفر، خرج و ڈاک کا انتظام کشمیر کمیٹی کرتی تھی جو محترم صدر صاحب کے ذمہ تھا اور مولانا جلال الدین شمس جو کمیٹی کے ممبر اور اسسٹنٹ سیکرٹری تھے اور جن کے سپر د وکلاء سے رابطہ رکھنے کا فریضہ تھا بہ طریق احسن اپنے فرض منصبی کو سرانجام دیتے رہے۔“ یہ رہا مولانا جلال الدین شمس صاحب مرحوم کا تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ رابطہ اور عمل دخل مگر اتنے اہم عمل دخل کے باوجود شمس صاحب مرحوم کا کسی وقت لگے ہاتھوں کشمیر کی سیر کرنے کا کوئی حوالہ مجھے نہیں ملا البتہ میرا حاصل مطالعہ یہ ہے کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کشمیر تشریف نہیں لے گئے البتہ ایک بار حضور کا جموں تک کا ایک سفر ضرور ہوا ہے اسی طرح ایک اور تاریخی کتاب مصنفہ مولانا اسد اللہ کا شمیری میں لکھا ہے کہ جموں کی جماعت خلیفہ نور الدین صاحب مرحوم کی مستعدی کی وجہ سے زیادہ فعال رہی ہے۔مسلمانان جموں کے سر کردہ لوگ ، بینگ میز ایسوسی ایشن اور انجمن ہائے اسلامیہ جموں کا جماعت احمدیہ قادیان کے علماء کو اپنے پاس مدعو کر نے کا عام طور پر یہ سبب تھا کہ وہ معاندین اسلام کے نرغے میں رہتے تھے اور مخالفین اسلام کے اعتراضات کا بھر پور دفاع جماعت احمدیہ کے سوا اور کسی کے نصیب میں نہیں تھا۔مرکز قادیان سے تین مواقع پر ہمارے علماء جموں تک ضرور جاتے رہے۔ایک موقع پر جب آریہ سماج والوں نے اسلام دشمنی کا مظاہرہ زور وشور سے کیا تو جموں کے عام مسلمانوں نے قادیان سے ان کے مقابلہ کے لیے علماء منگوائے۔