حیات شمس

by Other Authors

Page 271 of 748

حیات شمس — Page 271

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 255 سے یاد کیا جاتا ہے۔اس خصوصیت کی وجہ سے اگر چہ وہ بظاہر پینسٹھ سال کی عمر میں اس دار فانی سے چلے گئے ہیں مگر احمدی دنیا کی تاریخ میں زندہ جاوید ہیں۔آپ کی زندگی کا دوسرا پہلو تحریک حریت کشمیر کی مستند کتاب ”کشمیر کی کہانی“ کے مصنف اپنی اس کتاب کے صفحہ 134 پر ایک جلی عنوان ” مولانا شمس دے کر لکھتے ہیں: مولانا جلال الدین شمس جن کے آباؤ اجداد کسی زمانہ میں کشمیر سے پنجاب آئے تھے کئی سال ہندوستان سے باہر بلا دعربیہ میں رہنے کے بعد دسمبر 31ء میں واپس آئے تو صدر محترم کشمیر کمیٹی نے ان کی واپسی کے دوسرے دن ہی ان کو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا نائب سیکرٹری مقرر کر کے ان کے سپر د خصوصی پراپیگنڈا کا کام کر دیا۔جب کوئی شخص سالہا سال کے بعد اپنے عزیز واقارب کے پاس آتا ہے تو لازماً اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ ان سے ملاقاتیں کرے کچھ دن آرام کرے اپنے اہل وعیال کے پاس زیادہ سے زیادہ وقت بیٹھے اپنے دوستوں سے ملے لیکن صدر کو اللہ تعالیٰ ایسے کارکن دیتا رہا جو قومی کاموں کو ذاتی مفاد پر ہمیشہ مقدم کرتے۔چنانچہ شمس صاحب محترم نے بھی اس موقع پر نہایت اخلاص اور قربانی کا مظاہرہ کیا اور اپنی آمد کے بعد دوسرے ہی دن سے پوری تن دہی سے کام کرنا شروع کر دیا۔کشمیر کہانی ، آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی عظیم کار کردگی کی ایک مستند دستاویز ہے۔اس کتاب کے صفحہ 228 پر ان تمام وکلاء کا تذکرہ کیا گیا ہے جنہوں نے ڈوگرہ دور کے اس زمانہ کی ظالمانہ کارروائیوں کو طشت از بام کیا اور عدالتوں میں چیلنج کیا۔ریاست جموں و کشمیر کی اُس وقت کی مختلف مقامات میں قائم کٹھ پتلی عدالتوں میں مسلمانان کشمیر کے خلاف مقدمات کا ایک طو مار بر پا کیا گیا تھا۔اس زمانہ کی روئیداد کا تذکرہ کرتے ہوئے مصنف کا ایک تاریخی حوالہ ملاحظہ کیجئے کہ مولا نائٹس صاحب مرحوم نه صرف دفتری کام کی سرانجام دہی میں ہمہ تن کام کرتے تھے بلکہ لکھا ہے کہ وہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ایک معزز رکن بھی تھے۔چنانچہ لکھا ہے: ” مولانا عبدالرحیم صاحب درد ایم اے سیکریٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی قریباً دو سال تک نہایت شاندار خدمات سرانجام دینے کے بعد 2 فروری 32 ء کو انگلستان تشریف لے گئے۔اس سے