حیات شمس — Page 269
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 253 1938ء میں جامعہ احمدیہ سے فراغت کے بعد حضرت خلیفہ مسیح الثانی الصلح الموعود اسیران کشمیر کے رستگار کے ارشاد گرامی کے تحت اپنے ملک میں خدمت کا موقع ملا۔مجھے حضرت شمس صاحب مرحوم کے سلسلہ میں اپنی ذاتی معلومات کا اس جگہ ذکر کرنا ہے ان کی بھر پور زندگی کے حالات و واقعات احمد یہ لٹریچر میں جگہ جگہ تفصیلات کے ساتھ مذکور ہیں۔شمس صاحب کا شمیری بھی کہلاتے تھے مگر بہت کم اس لیے کہ وہ ایک مخلص احمدی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔بے شک وہ کشمیری تھے مگر قدرتی طور پر احمدیت کی چھاپ ان کی زندگی پر غالب تھی۔میں نے انہیں اپنے طالب علمی کے ہی دور میں زیادہ دیکھا ہے۔ان کے والد بزرگوار جو حضرت مسیح موعود کے صحابہ میں سے تھے مجھے ان کی بھی زیارت حاصل ہے۔مجھے متعدد مرتبہ ان کے مولد گاؤں قادیان کے قریب ہی سیکھواں جانے کا موقع ملا۔قادیان میں ذکر حبیب کے نام سے مسجد اقصیٰ میں ایک دور میں حضرت سید میر محمد اسحاق صاحب کے اہتمام و انصرام کے تحت تقاریب منعقد ہوتی تھیں۔میں نے حضرت شمس صاحب کے والد گرامی سے بھی خود ایک بار ذکر حبیب سنا ہے۔ان کی شکل وصورت ان کا قد وقامت صاف ستھرا تھا۔دیہاتی لباس بھی یاد ہے مگر افسوس کوئی روایت براہ راست سنی ہوئی مجھے یاد نہیں۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس کشمیری خاندان کے بزرگ دو سو سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل 1800ء میں جس گاؤں سے ہجرت کر کے قادیان کے قرب و جوار میں آکر آباد ہوئے تھے وہ گاؤں میرے اپنے معروف احمدی گاؤں موضع آسنور تحصیل کو لگام ضلع اسلام آباد کے قریب ہی ہے۔اس گاؤں کا نام بالحجہ ہالن ہے جو ہمارے گاؤں موجودہ نام آستور سے تقریباً بیس میل کی مسافت پر واقع ہے۔یہ گاؤں محل وقوع کے لحاظ سے دامن کوہ میں واقع ہے۔اس جگہ ایک بلند و بالا پہاڑ ہے جس کا نام مہ بال ہے یہ گاؤں بھی میرا دیکھا بھالا ہے۔تاریخ کشمیر کے ایک طالب علم کے طور پر مجھے معلوم ہے کہ جب تحریک آزادی کے سرخیل سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر بنے تو اسی روز بطور سیکرٹری مولانا عبدالرحیم صاحب در دایم اے کا انتخاب عمل میں آیا تھا مگر جب کام بڑھ گیا تو قادیان میں اس دفتر کے انچارج مولا نائٹس صاحب مرحوم کا تقرر بلا عربیہ سے واپسی پر ہوا اور اس طرح آپ کو آل انڈیا کشمیر کمیٹی میں اسٹنٹ سیکریٹری کے طور پر خدمات سرانجام دینے کی توفیق ملی۔اس زمانہ کے بعض اخباری بیانات میں ”سٹس کاشمیری کے نام سے آپ کو یاد کیا جا تا تھا مگر آپ کو میری دانست میں کبھی اپنے