حیات شمس

by Other Authors

Page 268 of 748

حیات شمس — Page 268

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 252 آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی مساعی کا نتیجہ بیرونی پلیڈروں کو پیش ہونے کی اجازت مل گئی حضرت شمس کا شمیری برائے سیکرٹری آل انڈ یا کشمیر کمیٹی تحریر کرتے ہیں : ابھی تک ریاست جموں و کشمیر کے قانون کے مطابق بیرونی پلیڈروں کو ریاست کی عدالتوں میں پیش ہونے کی اجازت نہ تھی جس کی وجہ سے ریاست کے مسلمانوں کو سخت مشکلات کا سامنا تھا۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی ایک عرصہ سے یہ کوشش کر رہی تھی کہ اس میں ترمیم ہو جائے اور بیرونی پلیڈروں کو بھی مقدمات کی پیروی کی اجازت مل جائے تاکہ ان مظلوم و بے کس مسلمانوں کی جو مقدمات میں مبتلا ہیں باہر سے قانون دان اصحاب بھیج کر قانونی امداد کی جا سکے کیونکہ ریاست کے اندر کافی تعداد میں قابل مسلمان وکلا کا میسر آنا سخت مشکل ہے۔کمیٹی کی بار بار کوششوں کے نتیجہ میں اب ریاست نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ بیرونی پلیڈر بھی مقدمات میں پیش ہو سکتے ہیں۔اس امر کی اطلاع با قاعدہ طور پر ہمارے پاس پہنچ چکی ہے۔ہم مسٹر و لال چیف جسٹس اور کرنل کا لون پرائم منسٹر جموں وکشمیر کے ممنون ہیں جنہوں نے اس امر میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی درخواست پر ہمدردانہ توجہ کی اور مہاراجہ بہادر سے اس امر کی منظوری دینے کے لئے سفارش کی۔(الفضل قادیان29 فروری1932ء) اسیران کشمیر کی قانونی امداد حضرت مولانا شمس صاحب کی طرف سے کشمیریوں کی معاونت کے لئے مختلف مقدمات کے سلسلہ میں کشمیر کمیٹی کی کاوشوں کی رپورٹس جماعتی اخبارات میں شائع ہوتی رہیں جن میں اسیران کشمیر کشمیر یوں کے حقوق کیلئے قانونی امداد کا ذکر کیا جاتارہا اور سرکردہ افراد کو کشمیریوں کیلئے خدمات پیش کرنے کی تلقین کی جاتی رہی۔سیکرٹری کشمیر کمیٹی کی طرف سے یہ رپورٹس الفضل قادیان کے 1932ء میں خصوصاً جون تا ستمبر کے شمارہ جات میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔اس سلسلہ کی ایک تفصیلی رپورٹ الفضل 14 جون 1932ء کے پر چہ میں بھی شائع ہوئی۔کشمیر یوں کیلئے حضرت مولانا شمس صاحب کی خدمات از مکرم خواجہ عبدالغفار ڈار، سابق مدیر اصلاح سرینگر ) راقم الحروف کو 1928ء میں قادیان کے مدرسہ احمدیہ میں بطور طالب علم جانے کی توفیق ملی اور