حیات شمس — Page 270
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 254 آبائی مالوف وطن سرینگر جانے کا کوئی موقع نہیں ملا البتہ ان کے عم زاد بھائی مرحوم قمر الدین صاحب ایک سے زیادہ مرتبہ کشمیر گئے۔ڈوگرہ دور میں جب ایک انتہائی قحط سالی کشمیر میں برپا ہوئی تھی یہ 1800ء کا زمانہ تھا۔اسی زمانہ کی یہ بات ہے کہ کشمیر سے بالخصوص وادی کشمیر کے قحط زدہ لوگ کثیر تعداد میں ہجرت کر کے ہندوستان کے مختلف شہروں میں آکر آباد ہوئے تھے۔چونکہ پنجاب کا ملک قریب تھا اس وجہ سے پنجاب کے مختلف شہروں ،قصبوں اور دیہات میں ان لوگوں نے بسیرا کیا۔کشمیری قوم محنت و مشقت کی خوگر قوم ہے بہت جلد اس انبوہ کشمیر نے جس طرح بھی بن پڑا اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے۔بعض لوگوں کو جگہ جگہ اپنا کوئی نہ کوئی ذریعہ معاش تلاش کرنے کے سلسلہ میں در در کی ٹھوکریں بھی کھانی پڑیں آخر سارے ہی سنبھل گئے۔علامہ اقبال کی طرح نامور اور آسودہ حال بنے۔شمس صاحب مرحوم کے خاندان کا اتہ پتہ معین طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے بعد ہی معلوم اور معروف ہے اور وہ اس طرح کہ قادیان کے قریب ہی یہ گاؤں سیکھواں تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور ہے جہاں اس خاندان کے سر براہ حضرت میاں محمد صدیق صاحب کو حضور کے ابتدائی زمانہ میں ہی آپ کی رفاقت نصیب میں آئی۔آپ اس گاؤں کے سرکردہ اور معززشخص تسلیم کئے جاتے تھے۔مقامی مسلمان، ہندو اور سکھ بھی اپنے باہمی تنازعات کے تصفیہ اور فیصلہ کے لئے انہی کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔مرحوم اپنے گاؤں میں ہی دفن ہیں۔آپ کی اولاد میں تین فرزندوں کو بھی خدا تعالیٰ نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی توفیق عطا فرمائی۔ان میں سے ایک بزرگ میاں امام الدین کہلاتے تھے۔پنجاب میں کسی گاؤں یا بستی میں جو شخص صالح اور صاحب کردار اور با اثر اور عبادت گزار ہو جاتا تھا عام طور پر لوگوں میں اسے میاں جی کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔یہی میاں امام الدین صاحب حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب کے والد بزرگوار تھے۔جنہوں نے شمس صاحب مرحوم کو بڑے بڑے جلسوں، مناظروں اور معرکوں میں سنا ہے اور جوان کا انداز تکلم تھاوہ جانتے اور مانتے ہیں کہ اگر حضرت خالد بن ولید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے شمشیر بر ان تھے تو شمس صاحب مرحوم بھی حضرت مصلح موعود کے ہاتھ میں ایک تیغ یزداں تھے۔ان کا کلام مخالف سلسلہ کو بے بس اور لاجواب کر دیا کرتا تھا۔اسی وجہ سے انہیں خالد احمدیت کے لقب