حیات شمس

by Other Authors

Page 257 of 748

حیات شمس — Page 257

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 241 جیسے بلکہ اُن سے بڑھ کر دین کے مخلص خادم عطا فرماتا رہے آمین۔بلا دعر بیہ میں مولانا کے اچھے اخلاص کا تذکرہ یہودی اور عیسائی بھی کرتے تھے۔جس مکان میں مولا نائٹس صاحب 1931ء میں حیفا میں رہتے تھے وہ ایک عیسائی کا تھا۔اس کے رشتہاروں میں ایک پادری بھی تھا۔مولانا کے پاس رات دن تبلیغی چرچے رہتے تھے۔احباب کی آمد ورفت رہتی تھی۔نمازیں بھی اسی مکان میں ہوتی تھیں اسی مکان میں مولانا کے پڑوس میں ایک یہودی خاندان رہتا تھا۔یہ سب مولانا کے اعلیٰ اخلاق کے مداح تھے اور ان سب سے مولانا کا سلوک بہت اچھا تھا۔آپ اُن کو تبلیغ بھی کرتے تھے۔جب میں فلسطین پہنچا ہوں تو پہلے ایک سال تک تو وہی مکان رہا پھر ہمیں ضرورت کے ماتحت دوسری جگہ ایک وسیع مکان کرایہ پر لینا پڑا۔ہمارے مکان چھوڑنے پر پڑوسیوں نے اور مالک مکان عیسائی نے افسوس کا اظہار کیا۔کتابوں اور ٹریکٹوں کی طباعت مولانا جن پریسوں میں کراتے تھے وہ سب بھی مولانا کے حسن معاملہ کے مداح تھے۔کبابیر میں بڑی جماعت تھی، مولانا کو بسا اوقات ان کی تربیت کیلئے جانا پڑتا تھا۔دوستوں نے ایک بالا خانہ مولانا شمس کے لئے مخصوص کر رکھا تھا اور آپ گھر کی طرح احباب کے درمیان زندگی بسر کرتے تھے۔کہا بیر کے بعض بڑے بوڑھے بھی مولانا سے مزاحیہ گفتگو کیا کرتے تھے اور خوش ہوتے تھے۔الحاج عبد القادر عودہ مرحوم جن کی عمر اس وقت نوے سال کے لگ بھگ تھی، ہر نماز میں ضرور آتے اور مولانا سے ضرور کوئی دل لگی کی بات کرتے۔مسجد محمود گاؤں سے ذرا باہر بنائی گئی۔مولانا اس کی تعمیر کی خود نگرانی کرتے تھے۔مسجد تحمیل کی آخری منزلوں میں تھی کہ مولا نا شمس صاحب خاکسار کو چارج دے کر واپس تشریف لے آئے۔مسجد محمود کے ساتھ میں نے چھوٹا سا دار التبلیغ بھی بنایا۔وہاں پر باہر سے بھی دوست آتے اور اپنے احباب بھی بعد نماز و درس دار التبلیغ میں جمع ہو جاتے اور تعلیم و تربیت کی باتیں ہوتیں۔محترم الحاج عبد القادر عوده مرحوم آخری دنوں تک نمازوں کے لئے مسجد میں آتے اور اپنی ظرافت سے ہمیں محظوظ کرتے رہے۔غفر اللهُ لَهُ۔عربی ممالک میں قرآن مجید کی صحیح تفسیر کے پیش کرنے کی بہت ضرورت ہے۔پرانی تفسیروں کے قصوں سے نو تعلیم یافتہ لوگ بیزار ہیں۔وہ اس بات کو باور کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں کہ قرآن مجید کے حقائق و معارف ختم ہو گئے ہیں۔عقیدۂ وہ چاہتے ہیں کہ قرآن مجید کی صحیح تفسیر ان تک پہنچائی جائے۔پادریوں کے اعتراضات کے جواب ان کو بتائے جائیں۔مصر اور شام میں ہزاروں روحیں اس کی پیاسی ہیں۔مولانا شمس صاحب کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کا علم دیا تھا۔سیدنا مسیح موعود علیہ السلام