حیات شمس — Page 258
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 242 کے تفسیری حقائق اور معارف کو بیان کرنا آپ کا طریق کا رتھا۔ان معارف کوسن کر ان ممالک کے تعلیم یافتہ لوگ عش عش کر اُٹھتے تھے۔میں نے جب رسالہ البشری جاری کیا اس کے تفسیری حصہ سے بہت سے غیر احمدی نوجوانوں نے بھی خاص دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔مولا نائٹس کا درس قرآن اپنے اندر خاص رنگ رکھتا تھا۔کہا بیر کے احمدی نو مبائعین مبلغین سلسلہ سے روزانہ نماز مغرب کے بعد تفسیر قرآن کریم سننے کے عاشق تھے اور یہ چاٹ ان لوگوں کو شروع میں مولا نائمس صاحب نے ہی لگائی تھی۔فلسطین کے ابتد کی مبلغین کھانے وغیرہ کا انتظام خود کرتے تھے سالن خود پکا لیتے اور روٹی بازار سے پکی پکائی مل جاتی تھی۔مولا نائٹس صاحب کا بھی یہی دستور تھا۔مولانا کا طریق زندگی بہت سادہ تھا۔ہر قسم کے تکلف سے آپ دُور تھے۔جو میسر آتا تھا شکر سے تناول فرماتے تھے۔مجھے فلسطین کے بعض دوستوں نے بتایا تھا کہ بعض اوقات کثرت کار کی وجہ سے مولا نا کھانا کھانا بھول جاتے تھے اور مسلسل کام کرتے رہتے تھے۔کچھ عرصہ تنگی کے ایام بھی آئے تھے۔فلسطین کے مخلصین مقدور بھر مولانا کی اور دوسرے مبلغین کی خدمت کرتے رہتے تھے۔وہاں کا دستور ہے کہ گھر پر ہر آنے والے کو قہوہ ضرور پیش کیا جاتا جو شروع میں مبلغین خود ہی تیار کرتے تھے۔وہاں آنے والے دوستوں کا بھی یہ طریق ہوتا تھا کہ وہ ملاقات کے لئے آتے ہوئے کوئی پھل وغیرہ بطور تحفہ لاتے تھے جو سب حاضرین مل کر کھاتے تھے۔اس طرح سے اخوت اور موڈت بڑھتی تھی اور یہ چھوٹی سی پاکیزہ برادری ترقی کرتی رہتی تھی۔کہا بیر کے احباب زمیندار ہیں ان کی انجیروں کے درخت بہت مزہ دیتے تھے۔مسجد محمود کے قریب پہاڑی پر یہ درخت اپنی شہد سے بھری ہوئی سفید انجیروں کے ساتھ بہت بھلے معلوم ہوتے تھے اور کھانے کا بہت لطف ہوتا تھا۔چارج دینے سے پہلے مولانا میری موجودگی میں جتنے دن حیفا و کہا بیر میں رہے خوب بے تکلفی رہی اور دعوتوں کا سلسلہ جاری رہا۔کبھی کبھی انجیروں کے پودوں کے تلے بھی دعوت ہوتی تھی۔مولانا کی الوداعی پارٹی میں احباب جماعت کے علاوہ بعض مسیحی اور یہودی بھی شامل ہوئے تھے۔انہوں نے بھی تاثرات کا اظہار کیا تھا اور مولانا کو خراج تحسین ادا کیا تھا۔خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مولانا شمس نے بلا د عر بیہ میں نہایت مستقیم بنیا دا شاعت اسلام اور تبلیغ احمدیت کی قائم کی ہے۔جزاه الله احسن الجزاء ورفع درجاته في الجنّة العلياء۔(ماہنامہ الفرقان۔جنوری 1968ء)