حیات شمس — Page 256
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 240 علماء کی طرف سے فتووں کے علاوہ گاہے گاہے مخالفانہ پمفلٹ بھی شائع ہوتے تھے جن کے جواب میں مولانا شمس صاحب لکھتے ، چھپواتے اور شائع کرتے تھے۔عیسائیوں سے بھی مقابلے جاری رہتے تھے۔فلسطین کے علاوہ سال میں ایک آدھ مرتبہ مصر کا سفر بھی مولانا کو در پیش آتا تھا۔وہاں بھی جماعت تھی۔نئے احمدیوں کی پدرانہ شفقت کے ساتھ تربیت کرنا مبلغ کا اولین فرض ہے۔مولا نا یہ فرض بھی باسلوب اور احسن ادا فرماتے رہے۔ان لوگوں کی تعلیم کا بھی خیال رکھنا ضروری تھا۔میں نے دیکھا ہے کہ بلاد عربیہ کے سب احمدی احباب مبلغ کو روحانی باپ اور خلیفتہ اسی کا نمائندہ سمجھتے ہیں اور اس سے نہایت محبت سے پیش آتے ہیں۔مولا ناش صاحب نے اگست 1931 ء تک بلاد عر بیہ میں کام کیا ہے اس وقت میں نے جا کر حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے حکم سے آپ سے چارج لیا تھا۔میں یہ شہادت ادا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ مولا نائٹس صاحب نے اپنے زمانہ میں بلاد عریبہ میں نہایت عمدہ کام کیا ہے۔نہایت جانفشانی سے احمدیت کا پیغام پہنچایا ہے اور پوری تندہی سے مخالفین اسلام کا رد کیا ہے۔آپ نے عیسائی پادریوں کے رد میں پمفلٹ بھی لکھے، ان سے مناظرات بھی کئے بہائیوں کی بھی تردید کی مخالف علماء کے اعتراضات کے جواب دیئے غرض آپ کا کام نہایت شاندار تھا۔آپ نے بعد کے جانے والے مبلغین کیلئے نہایت عمدہ بنیاد قائم کر دی۔آپ نے الکبابیر میں مسجد محمود کی بنیاد بھی رکھی تھی آپ فلسطین۔سے واپسی کے وقت ایک مخلص اور فدائی جماعت کو چھوڑ کر آئے تھے۔جزاہ اللہ عتنا احسن الجزاء۔مجھے یاد ہے کہ میں نے اُن کی واپسی سے پہلے جب اُن سے مشورہ کیا کہ اپنا پریس قائم کر کے ماہوار عربی رسالہ جاری کر دیا جائے تو مولانا نے مالی دشواریوں کے باعث اسے مشکل قرار دیا تھا۔مگر اُن کی تیار کردہ مخلص جماعت کا یہ حال تھا کہ جونہی ہم انہیں الوداع کہہ کر ریلوے سٹیشن سے دار التبلیغ میں جمع ہوئے اور میں نے احباب کے سامنے یہ تجویز رکھی تو سب نے فوراً لبیک کہا اور قربانی کے لئے تیار ہو گئے۔چنانچہ پہلے سہ ماہی اور پھر ماہوار " البشری جاری ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے پریس لگانے کی بھی توفیق دی اور با قاعدہ مدرسہ احمدیہ قائم ہو گیا اور مسجدمحمود بھی مکمل ہو گئی۔میں علی وجہ البصیرت جانتا ہوں کہ میرے زمانہ میں تبلیغ تعلیم اور تربیت کا جو کام آگے بڑھا اس میں مولانا مرحوم کا بہت حصہ تھا۔انہوں نے پودے لگائے اور ہم نے پھل کھائے۔اس لئے میں تو ہمیشہ اُن کیلئے دعا کرتا ہوں اور اب بھی کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور سلسلہ احمدیہ کو اُن