حیات شمس — Page 242
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس فيامن بالهدى والحق نادى فاسمع موته الصخرا لجماد عدوک قدهـوی یـا ســا و بادا وقلت بحكمة الله اعتصاما لك الـرحمــن خـلاق الوجود وليس له سوى جمر الحقودا فبشرى ان مجدک فی سعود ستعلونی كواكبها مقاما و کم لک من نداء او کتاب وما عند الاراذل من جواب سوی شتم تزايد او سباب وقد سقطوابها علما قعـامـا 226 اس طرح یہ لطیف قصیدہ تقریباً اسی اشعار کا چھپوا کر مصر سے بھیجا گیا جو کہ فلسطین کی تمام سوسائیٹیوں اور انجمنوں اور دوسرے افراد تک پہنچا دیا گیا۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس کے بعد پھر ”سفیه المجاهدین “ کوسر اٹھانے کا موقعہ نہیں ملا۔مخالفین نے ایک شخص مراد اصفہانی کو اس کام پر مقرر کیا کہ وہ مولوی جلال الدین صاحب کی فلسطین سے غیر حاضری کے زمانہ میں لوگوں کو احمدیت سے واپس لانے کی سعی کرے۔ان لوگوں کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز کہا بیر گاؤں ہے جہاں کے بلند و بالا پہاڑ پر احمدیت کا جھنڈا اڑتا دیکھ کر ان کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگتا ہے۔اصفہانی کی زیادہ تر توجہ موضع کہا بیر ہی کی طرف رہی۔اس نے ارادہ کیا کہ وہاں جا کر کچھ عرصہ قیام کرے اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرے۔چنانچہ 7 نومبر کے خط میں اخویم رشدی آفندی سیکرٹری انجمن احمدیت حیفا مراد اصفہانی کے کہا بیر جانے کے متعلق لکھتے ہیں : اصفهانی شیخ یونس کو لے کر کہا بیر میں گیا۔وہاں انہوں نے شیخ صالح احمدی سے ایک کمرہ رہائش کے لئے مانگا جس پر ان کے درمیان حسب ذیل مکالمہ ہوا: شیخ صالح: کمرہ کس لئے چاہیے؟ شیخ یونس: ایک عالم فاضل کیلئے۔شیخ صالح: ہمارے پاس کوئی کمر نہیں اور ہمیں کسی ایسے عالم کی ضرورت بھی نہیں ہم بفضل خدا دینی امور سے واقف ہو چکے ہیں۔تم اپنے ہم عقیدہ لوگوں کو جا کر دین سکھاؤ قہوہ خانوں اور شراب خانوں کو بند کرا نیکی کوشش کرو۔شیخ یونس: تم نے استاد جلال کو یہاں رکھا ہو اتھا اس عالم کو بھی یہاں رکھ لو۔