حیات شمس — Page 241
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 225 پھر بعض نے گالیاں دے کر اپنا دل خوش کرنا چاہا چنانچہ ایک بدچلن اور بد کردار سے ایک قصیدہ لکھا کر شائع کرایا گیا جس میں سوائے گالیوں کے کچھ نہ تھا۔اس شخص کی دماغی حالت کا اس امر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اس اشتہار میں اپنے نام کے ساتھ خود جو القاب لکھتا ہے وہ لقب "طبيب المجاهدين“ اور ”سفیه العالمین“ ہے اور جن اخلاق کا ” سفیه العالمین“ نے اظہار کیا ہے اس کیلئے میں دو تین اشعار بطور نمونہ نقل کر دینا ضروری خیال کرتا ہوں : هم اهل المعاني والبيان ولیسو اکالجهول القادياني لئیم ناكر السبع المثاني مضـل كـافـر رفـع اللثـامـا پھر لکھتا ہے: هو الشيطان بل لاشک انک هو الدجال من يتبعه هالک اذقه يا الهی عذاب مالک عن القرآن حقا قد تعامى الغرض اس طرح کی بے ہودہ سرائی اس نے کی اور احمدیوں کے دلوں کو نہ صرف دکھا یا بلکہ لوگوں کو ان کے خلاف بھڑ کانے کی کوشش کی۔جب طبیب المجاہدین کا یہ اعلان مصر میں پہنچا تو ایک احمدی شاعر نے فی البدیہہ اس کا رد لکھا جو خدا تعالیٰ کے فضل سے مفید ثابت ہوا۔میں احباب کے تفنن طبع کیلئے اس کے بھی بعض اشعار لکھ دیتا ہوں۔ببسم الله من خلق الاناما وحمد الله خالقنا دواما ونرسل من شريعته سهاما لمن امســي بشـر مستهـامـا سفيه العالمين بلا مراد قبيح الفعل مفتضح۔۔۔۔۔۔۔۔خبيث النـفـس مـنكشف الغطاء لئيم قد غدا يغرى اللئاما أأنت هناك شيخ المسلمينا بربک ام سفيه العالمينا و جهلک یا طبیب الـجـاهلين يكاد اليوم يسقيك الحماما پھر ہمارے مبلغ کو مخاطب کر کے لکھتا ہے: جلال الدین انک فی علاء وارفع عن منازلة الهراء تضيئ الشمس في وسط السماء فينكـرهـا الغبي وقد تعامى