حیات شمس — Page 243
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 227 شیخ صالح: استادجلال ہمارا استاد ہے اور ہمارا سید و مولیٰ ہے اس سے ہم نے دین سیکھا۔تمہارے عالم کو اس سے کیا نسبت۔تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ یہاں سے چلے جاؤ۔اس گفتگو کے بعد اصفہانی اور یونس واپس چلے گئے۔طرابلس الشام میں نئی جماعت الفضل قادیان 5 فروری 1931ء) (حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس ) عید الاضحی کے روز طرابلس الشام ( ٹریولی ) میں جماعت احمد یہ کے قائم ہونے کی خوشخبری ملی۔گذشتہ سال علماء طرابلس نے میری کتابوں کے رد میں تین ٹریکٹ لکھے تھے جن کے جوابات اسی وقت شائع کر دیئے گئے تھے۔اس کے بعد علمائے طرابلس تو بالکل خاموش ہو گئے مگر ہماری کتابیں اور ٹریکٹ وہاں تقسیم ہوتے رہے۔کچھ مدت سے برادرم مصطفیٰ آفندی نو یلاتی دمشقی جو مخلص احمدی ہیں طرابلس میں کام کرتے ہیں۔ان کے ذریعہ مندرجہ ذیل تین اشخاص سلسلہ میں داخل ہوئے۔خالد محمد معاوی- عبدالرحمن زعا نیلی۔سید علی حیدر۔خادمحمد جمعاوی نے اپنے مکتوب میں جو اس نے حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں لکھا ہے نہایت مخلصانہ جذبات کا اظہار کیا ہے۔سید علی حیدر شیعہ فرقہ سے سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں استقامت بخشے اور ان کے ذریعہ دوسروں کو قبولیت حق کی توفیق عطا فرمائے۔انہوں نے لکھا ہے ہم دوسروں کو بھی تبلیغ کر رہے ہیں۔محمد سعیدی النشار الحمیدی طرابلسی اسی طرابلس کا ایک عالم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت قادیان میں آکر سلسلہ میں داخل ہوا تھا جن کا نام محمد سعیدی النشار الحمیدی تھا۔حضور نے ان کا ذکر اپنی کتاب نور الحق حصہ اول اور کرامات الصادقین میں کیا ہے۔نوٹ : یہ وہی بزرگ ہیں جن کا ذکر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے ضمیمہ انجام آتھم میں اپنے 313 صحابہ کرام کی فہرست میں محمد سعید صاحب شامی طرابلسی نمبر 55 میں تحریر فرمایا ہے۔مؤلف۔] عید کے روز تین اشخاص اور اس سے پہلے ایک شخص کہا بیر میں اور ایک شخص طیرا گاؤں سے اور ایک شخص حیفا سے سلسلہ میں داخل ہوئے۔بعض اوقات ایک دو دوستوں کو دوسرے دیہاتوں میں بھی