حیات شمس

by Other Authors

Page 240 of 748

حیات شمس — Page 240

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 224 ہوئے۔اس پر احمدی احباب سخت برافروختہ ہوئے اور کہا ہم نے جو کچھ سمجھنا تھا سمجھ لیا ایسے لوگوں سے مباحثہ کی ضرورت نہیں ہے۔میں اٹھا اور میرے ساتھ ہی سب احمدی اٹھ آئے مگر پھر بعض نے یہ کہ کر بلایا کہ آپ بیان کریں وہ درمیان میں نہیں بولیں گے۔اس پر ہم دوبارہ بیٹھ گئے۔جب میں نے تقریر شروع کی تو اس نے پھر بولنا شروع کر دیا۔شیخ احمد احمدی آپ خاموش ہو کر کیوں نہیں سنتے۔قاضی (اسے برا معلوم ہوا) علماء کو ادب سے مخاطب کرنا چاہیے۔شنقیطی : تم جاہل ہو کر علماء کو اس طرح مخاطب کرتے ہو حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ۔شیخ احمد : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ عُلَمَاءُ هُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ یہ السَّماءِ۔بات بڑھنے لگی تو میں نے شیخ احمد کو خاموش کراد یا اور پھر تقریر شروع کرنے لگا۔شنقیطی : تم جو کچھ بیان کرو گے وہ مردود ہے۔شمس کیا دنیا میں کوئی ایسا عاقل بھی ہے جو فریق مخالف کی بات سننے سے پہلے ہی اس کے مردود ہونے کا حکم لگادے اگر ایسی ہی بات ہے تو آپ یہاں کس لئے آئے ہیں؟ شنقیطی : اہل قریہ کو سمجھانے کیلئے آئے ہیں۔شمس: پھر مجھے کیوں بلوایا؟ اب آپ کو میری تقریرسننا ہوگی۔شنقیطی: (کھڑا ہو کر ) میں گمراہی کی باتیں نہیں سن سکتا۔اس پر ہم بھی اٹھ کر چلے گئے اور مباحثہ ختم ہو گیا۔یہ مناظرہ احمدیوں کے ازدیاد ایمان کا باعث ہوا اور سات عورتیں سلسلہ میں داخل ہوئیں جن کے خاوند پہلے سلسلہ میں داخل ہو چکے تھے۔الفضل قادیان 20 نومبر 1930ء) احمدیان فلسطین کا استقلال احمدیت کو جو خاطر خواہ کامیابی فلسطین میں ہوئی اس کی تاب علماء فلسطین کہاں لا سکتے تھے انہوں نے احمدیت کے روکنے کے لئے ہر ممکن طریق اختیار کرنا پسند کیا۔حیفا میں اوباشوں کے ذریعہ بعض احمد یوں کو مارڈالنے کی دھمکیاں دی گئیں اور بعض پر دست درازی بھی کی گئی۔اگر حیفا کے معزز پولیس آفیسر اپنے فرائض منصبی کو مد نظر نہ رکھتے ہوئے ذرا بھی کوتاہی سے کام لیتے تو ممکن تھا کوئی شدید حادثہ رونما ہو جاتا۔