حیات شمس — Page 239
223۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس خاموش ہوئے۔محمد شنقیطی نے تقریر شروع کی۔چونکہ وہ عصبی المزاج تھا اس لئے میں نے یہی مناسب سمجھا کہ جو کچھ وہ کہنا چاہتا ہے کہہ لے پھر میں اس کی باتوں کا جواب دوں گا۔چنانچہ اس نے مسئلہ حیات مسیح اور خروج دجال اور ظہور مہدی کے متعلق روایات ۲۵ منٹ میں بیان کیں۔جب وہ ختم کرنے لگا تو میں نے مندرجہ ذیل سوالات کئے۔شمس: حمار الدجال کے متعلق کچھ فرمائیے گا کہ وہ کتنا لمبا چوڑا ہوگا۔قاضی ( دوسرے سے مخاطب ہو کر ) کس طرح قابل اعتراض بات پر گرفت کرتا ہے۔شنقیطی : اس کے متعلق روایات میں اختلاف ہے۔شمس: شنقیطی کیا بخاری میں مسیح موعود کے ساتھ مہدی کے آنے کا بھی ذکر ہے اور مہدی کا لفظ موجود ہے؟ کیا جو حدیث بخاری میں نہ ہو وہ صحیح نہیں ہوگی۔میں نے کب کہا کہ وہ میچ نہیں ہے میں تو یہ دریافت کرتا ہوں کہ آیا مہدی کا لفظ بخاری میں ہے۔شنقیطی : بخاری میں امامکم منکم ہے جس سے مراد مہدی ہے۔مشمس: محمد بخاری میں امامکم منکم سے مراد خود مسیح موعود ہے اور اس کے معنی شروح نے یہ بھی لکھتے ہیں کہ امامکم منکم سے مراد یہ ہے کہ وہ کتاب اللہ اور سنت محمدیہ کے موافق حکم کرے گا۔مسلم کی حدیث امامکم منکم اور اس کی تشریح جو امام زہری نے بیان کی ہے اس بات کی بین دلیل ہے کہ امامکم سے مراد خود مسیح موعود ہی ہے نیز امام بخاری کا یہ طریقہ ہے کہ اگر کسی حدیث سے بہت سے مسائل مستنبط ہوتے ہیں تو وہ علیحدہ باب باندھ کر اس مسئلہ کو بیان کر دیتے ہیں۔اگر ان کے نزدیک امامکم منکم سے مسیح موعود کے سوا کوئی اور مہدی مراد ہوتا تو وہ ضرور اپنی صحیح میں مہدی کے متعلق باب باندھ کر اس حدیث کا ذکر کرتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔بہر حال یہ ثابت ہو گیا کہ بخاری میں مہدی کا لفظ موجود نہیں ہے۔لیجیے اب میں آپ کی تقریر کا جواب دیتا ہوں۔جب میں نے جواب دینا شروع کیا تو پھر کبھی تو وہ بول پڑتے اور کبھی قاضی۔اس پر میں نے کہا جیسے میں نے خاموش ہو کر آپ کی تقریر سنی ہے آپ کو بھی خاموش ہو کر سننا چاہیے۔شنقیطی: میں کیسے گمراہی کے کلمات سن کر خاموش رہوں۔آپ نے جو بیان کیا میرے نزدیک کیا وہ گمراہی کی باتیں نہیں ؟ اگر آپ مناظرہ کیلئے آئے ہیں تو آپ کو آداب مناظرہ کا خیال رکھنا چاہیے اور میری تقریر خاموش ہو کر سنی ہوگی مگر وہ چپ نہ مشمس