حیات شمس — Page 228
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس ایک از ہری عالم سے گفتگو 212 چند مشائخ میرے پاس آئے جن میں سے بعض از ہر کے استاد بھی تھے۔پہلے تو انہوں نے جماعت احمدیہ کے امتیازی امور کے متعلق سوال کیا۔میں نے جواب دیا۔پھر حاضرین میں سے ایک نے جامعہ ازہر کے استاد سے اِنِّی مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ کی تغییر دریافت کی تو اس نے کہا اس کے معنی ہیں۔انی منو مک۔کہ میں تجھے سلانے والا ہوں۔میں نے کہا ( وہ سوتے تو ہر روز ہی تھے ) اس آیت کی تفسیر میں تو خود مفسرین نے اختلاف کیا ہے۔آپ نیند کے معنوں کو کیوں ترجیح دیتے ہیں حالانکہ امام بخاری نے اس کے معنی ابن عباس سے اِنِّی مُتَوَفِّیک روایت کئے ہیں۔ابن عباس معر بی جانتے تھے یا نہیں؟ کہنے لگا درست ہے مگر بخاری میں دوسری روایت بھی تو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح پر اونگھ ڈالی اور پھر اسے آسمان پر اٹھا لیا۔میں نے کہا آپ کا مقصد یہ ہے کہ بخاری میں دو متضاد روایتیں موجود ہیں۔کہنے لگا ان دونوں کے درمیان موافقت دی جاسکتی ہے۔میں نے کہا بہر حال بخاری میں ایسی دو روایتیں تو پائی گئیں جو بظاہر ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔جب دو دفعہ وہ اقرار کر چکا تو میں نے کہا۔مولانا مجھے افسوس ہے کہ دوسری روایت کا بخاری میں نام و نشان نہیں ہے۔اس پر کہنے لگا میں نے یہ تو نہیں کہا کہ بخاری میں ہے۔میں نے کہا آپ حاضرین سے دریافت کر سکتے ہیں۔کہنے لگا اصل غرض تو روایت سے ہے۔میں نے کہا یہ روایت صحاح ستہ میں بھی موجود نہیں ہے۔پھر کہنے لگا کہ میں نے ابھی تک عصر کی نماز نہیں پڑھی نماز پڑھ لوں۔پھر یہ کہہ کر کہ ہم آپ کے رسالہ کا جواب لکھیں گے چلا گیا۔برادرم سید رشدی آفندی سیکرٹری جماعت احمدیہ حیفا خوب محنت سے تبلیغ کر رہے ہیں۔مندرجہ ذیل اشخاص سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔(۱) صالح سوقی شامی۔(۲) فقیر محمد عمر نابلسی۔(۳) اور مصر میں محمد سلیم آفندی عبد اللہ اللہ تعالیٰ استقامت عطا فرمائے۔جب میں حیفا میں تھا تو یوسف مارکیانی نام سیحی میرے پاس آتا رہا آخر میں اس نے اسلام قبول کر لیا۔چونکہ تبدیلی مذہب حسب قانون بواسطه حکومت ہوتی ہے اس لئے جب وہ بذریعہ قاضی مسلمان ہوا تو اس نے کہا کہ دیکھواس ہندی کے پاس نہ جانا حالانکہ اسے اسلام کی صداقت میرے ذریعہ ہی معلوم ہوئی تھی۔مشائخ کی مخالفت کی وجہ سے وہ جماعت میں اس وقت داخل نہیں ہوا مگر اب اس نے بیعت کا خط لکھ دیا ہے اور جماعت میں داخل ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ دوسروں کو بھی قبولیت حق کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔(الفضل قادیان 2 مئی 1930ء)