حیات شمس

by Other Authors

Page 229 of 748

حیات شمس — Page 229

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس مصر میں احمدیت مدیر الفضل قادیان تحریر کرتے ہیں : 213 برادرم عزیز مولوی جلال الدین صاحب شمس مبلغ اسلام مقیم فلسطین اپنے یکم جون 1930ء کے مکتوب کے ذریعہ یہ خوشخبری سناتے ہیں کہ وہ چار ماہ مصر میں نہایت کامیابی کے ساتھ تبلیغ کرنے کے بعد واپس آگئے ہیں۔اس عرصہ میں سید رشدی آفندی سیکرٹری جماعت احمد یہ حیفا اور شیخ علی القزق اور شیخ صالح العودہ نے نہایت گرم جوشی و ہمت سے تبلیغ میں حصہ لیا ہے۔نیز سیدہ زہر یہ خانم زوجہ سید رشدی آفندی بھی عورتوں کو تبلیغ کرتی رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر دے۔یکم اپریل سے اس وقت تک مندرجہ ذیل اشخاص سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔(۱) صحى الفرق طالب علم ہے تبلیغ کا جوش رکھتا ہے اپنے ہم جماعت طالب علموں کو تبلیغ کرتا رہتا ہے۔چنانچہ اس کے ذریعہ تین طالب علم سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔(۲) محمد بن عبد اللطیف الجزائری (۳) عبد القادر بن صالح العوده (۴) حامد (۵) محمد (۱) محمود (۷) امینہ (۸) فاطمه (۹) حلیمه (۱۰) فاطمہ بنت مصطفی حسین زوجہ شیخ علی القزق (۱۱) الشیخ احمد العوده (۱۲) محمد بن الشیخ احمد العوده (۱۳) حلیمہ زوجہ عبد القادر العوده (۱۴) الحاجة حلیمہ زوجہ الحاج عبد القادر العوده (۱۵) مریم زوجہ شیخ صالح العوده (۱۶) مصطفی آفندی (۱۷) محمود حداد (۱۸) خائف موسیٰ زید (۱۹) زوجہ الحاج (الفضل قادیان 10 جون 1930ء) القزق (۲۰) محمد شرقاوی۔سوڈان میں احمدیت ( حضرت مولا نا جلال الدین صاحب شمس) اللہ تعالیٰ کے فضل سے مصر کا سفر نہایت مبارک ثابت ہوا۔میں اسے حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی قدسی اور مبارک توجہ اور حضور کی اور جماعت احمدیہ کی دعاؤں کا نتیجہ یقین کرتا ہوں۔اس چار ماہ کے قلیل عرصہ میں پندرہ اشخاص سلسلہ میں داخل ہوئے جن میں سے تین نوجوان ایسے ہیں جو پہلے عیسائی ہو چکے تھے۔نیز کئی مسیحی مشنوں کے پادریوں سے مباحثات ہوئے جن میں انہیں شکست فاش ہوتی رہی۔اخباروں میں بھی دو تین مرتبہ سلسلہ کے متعلق ذکر آیا اور جمعیۃ مکارم الاخلاق میں ایک پبلک لیکچر بھی ہو ا جس میں تقریب دو ہزار کی حاضری تھی۔اس لیکچر کا حاضرین پر اور پھر ان کے ذریعہ دوسروں پر نہایت اچھا اثر ہوا۔علاوہ ازیں ایک اور عظیم الشان فائدہ یہ ہوا کہ سوڈان سے ایک تعلیم یافتہ شخص جو