حیات شمس — Page 172
172۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس * 1929-1927 پادری الفریڈ نیلسن سے مباحثہ حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس ) دمشق میں تقریباً سات سال سے مسیحی مشن قائم ہے۔بڑے پادری کا نام الفریڈ نیلسن ہے جو ڈنمارک کا رہنے والا ہے اور اس علاقہ میں چودہ پندرہ سال سے کام کر رہا ہے۔ماہ فروری 1927ء میں اس سے ملاقات کا اتفاق ہوا۔دو دن تک مسیح کی صلیبی موت پر گفتگو جاری رہی۔آخر یہ قرار پایا کہ بحث تحریری ہو۔اس قرارداد کے مطابق میں نے پہلے خط میں تحریری طور پر چند سوالات لکھ کر بھیجے جن کا جواب دیتے ہوئے اس نے بھی مجھ سے چند سوالات کئے اور صلیبی موت پر انجیل سے چند دلائل پیش کئے جن کو میں نے نہایت معقول طریق پر رد کر دیا جس کی وجہ سے وہ گھبرایا اور مناظرہ سے گریز کرنا چاہا مگر میں نے اسے خوب اکسایا اور کہا کہ یاد رکھو جس مضمون پر بحث ہے وہ نہایت ہی اہم مضمون ہے۔پولوس نامہ قرنطیوں کے باب پندرہ میں کہتا ہے کہ اگر مسیح صلیب پر مرنے کے بعد جی نہیں اٹھا تو ہماری ساری تبشیر باطل اور ایمان باطل ہے۔اگر ہم نے یہ ثابت کر دیا کہ مسیح فی الحقیقت صلیب پر نہیں مرا تھا تو دین مسیحی بالکل باطل ہو جائے گا۔پس اس مضمون کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کو ان دلائل کا جو میں حضرت مسیح کے صلیب پر نہ مرنے کے متعلق انا جیل سے پیش کروں گا جواب دینا ہوگا۔پھر میں نے دس دلائل انجیل سے اپنے دعوی کے ثبوت میں پیش کئے اور اس کے اس سوال کا کہ پہلے تو مسلمانوں میں سے کوئی اس طرح مسیح کی صلیبی موت سے انکار نہیں کیا کرتا تھا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بشارت دی اور کہا کہ آنحضرت صلعم نے بھی فرمایا تھا کہ مسیح موعود کسر صلیب کرے گا۔سو یہ دلائل جو میں نے پیش کئے ہیں اسی کا سر صلیب کی کتب سے بطور خلاصہ کے لکھے ہیں۔پھر آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک عبارت لکھی جس کا آخری ٹکڑا یہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اس وقت بطور شاہد کے کھڑا کیا ہے تا میں گواہی دوں کہ سب ادیان باطل کا رنگ پکڑ گئے مگر اسلام۔اور مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ روح عطا کی گئی ہے جس کے وو