حیات شمس

by Other Authors

Page 173 of 748

حیات شمس — Page 173

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 173 مقابلہ کی کسی کو طاقت نہیں۔پس جبکہ تم اس روح القدس کا جو مجھے بخشا گیا ہے مقابلہ نہیں کر سکتے تو تمہاری خاموشی تم پر حجت ہوگی۔“ اس پر چہ کا اس نے ایک ماہ کے بعد جواب بھیجا مگر دس دلائل میں سے ایک دلیل کو بھی نہ چھوا۔اس نے اپنے پر چوں میں لکھا ہے کہ مسیح نے بخوشی خاطر صلیب پر لٹکایا جانا منظور کیا۔جواباً میں نے انجیل سے اس امر کو باطل ثابت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر یہ بات صحیح ہو تو کوئی عاقل اس کے اس فعل کو مستحسن نہیں سمجھے گا اور اس کی مثال ایسی ہی ہوگی کہ اگر کسی استاد کے شاگر د سبق یاد نہ کریں اور اس کے حکموں کو نہ مانیں تو وہ کہے اچھا لو تم میری باتوں کو نہیں مانتے اس لئے میں خود کشی کر لیتا ہوں۔خود کشی ان کو کیا فائدہ دے سکتی ہے۔اسی طرح جب مسیح نے دیکھا کہ لوگ اس کا کہا نہیں مانتے اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتے تو اس نے کہا۔اچھا لو میں خود کشی کر لیتا ہوں۔اسی طرح اس مباحثہ میں مندرجہ ذیل اہم مضامین پر مختصر بحث ہوئی ہے: (۱) صحابہ اور حواریوں کا مقابلہ (۲) قرآن مجید کی تعلیم اور انجیل کی تعلیم کا موازنہ (۳) پولوس کی حقیقت اور اس نے کس طرح دین مسیح کو بگاڑا۔پادری کا اپنا اقرار کہ انا جیل میں بعض امور خلاف واقعہ پائے جاتے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔مباحثہ کا اثر اس مباحثہ کا باعث ایک مسلم نو جوان تھا جو جرمن میں بھی تعلیم پا چکا ہے اور انگریزی زبان سے بھی واقف ہے۔اس پر اس مباحثہ کا یہ اثر ہوا ہے کہ وہ اب ہماری تمام باتوں کو مانتا ہے اور لوگوں سے گفتگو کرتا ہے۔حتی کہ اس نے مشائخ سے کہا ہے کہ عیسائیوں کے پاس احمدیوں کے دلائل کا کوئی جواب نہیں ہے۔یہاں موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس مباحثہ کا شائع ہونا مشکل ہے اس لئے مصر کے مطابع سے خط و کتابت کر رہا ہوں۔امید ہے کہ اگر یہ مباحثہ شائع ہو گیا تو اس سے ان علاقوں میں ایک عظیم الشان تغیر ہوگا کیونکہ ان کے نزدیک یہ بات نئی ہے کہ انجیلوں سے یہ ثابت ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا۔اس وقت جیسا کہ اخباروں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے ہندوستان میں مسیحی تبلیغ زوروں پر ہے اس لئے تمام مسلمانوں کو اس مسئلہ پر غور کرنا چاہئے۔یہ ایک ایسا کاری حربہ ہے جس کے آگے مسیحیت