حیات شمس — Page 154
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 154 کا موقعہ ہوتا ہے۔مختلف حالات کے ماتحت مختلف طریق اندازہ کے ہوتے ہیں۔اب تو معلوم ہوتا ہے کہ خدائی فعل اس رنگ میں ظہور پذیر ہورہا ہے کہ ہمارے مبلغ کا وہاں ٹھہرنا ہی اس کی کامیابی ہے اور کچھ کام کرنا تو بڑی بات ہے۔میرے نزدیک علاوہ اس اخلاص کے اظہار کے جو شام کے مبلغین نے کیا اور عین گولہ باری کے نیچے تبلیغ کی اس پر ہمارے دشمن بھی حیران ہیں۔سفر میں اس بارہ میں بعض غیر احمدیوں سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے ہمارے مبلغین کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور کہا آپ ہی کے مبلغ ایسے کام کرنے والے لوگ ہیں جو کسی خطرہ کی پروا نہیں کرتے۔مجھے تعجب ہوگا اگر غیر احمدی تو ہمارے مبلغین کی قدر کریں مگر احمدی نہ کریں۔۔۔مبلغین کو زریں نصائح اس ریویو کے بعد میں اس تقریر کو ختم کرنے سے پہلے طلباء مدرسہ احمدیہ کو نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ میں ان کے شکریہ کے جذبات کو قدر کی نظر سے دیکھتا ہوں مگر نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی قوم اس وقت تک کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس کے افراد اپنے اخلاق خاص طرز پر نہ ڈھالیں اور وہ ہمددری اور محبت کی تعلیم جو اسلام نے دی ہے اور کسی مذہب نے نہیں دی۔ایک پنڈت اپنے پیرؤوں کو کیا سکھاتا ہے۔وہ صرف پھیرے دینا جانتا ہے مگر اسلام نے جو تعلیم دی ہے وہ ملکی قومی تمدنی فوائد اپنے اندر رکھتی ہے اور ان کا بیان کرنے والا مولوی ہے۔اسی طرح عیسائی پادری کیا بیان کرتا ہے یہی کہ صیح گنہگاروں کو بچالے گا۔کوئی ایسی تعلیم پیش نہیں کرتا جو روزانہ زندگی میں کام آسکتی ہو۔اس وجہ سے جواثر ایک مولوی کی باتوں کا ہونا چاہیے اس کا ہزارواں حصہ بھی پادریوں کی باتوں کا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مولوی جو کچھ بیان کرتا ہے اس کا اثر روزانہ زندگی پر پڑتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ مولوی کی بہت زیادہ قدر ہو اور پادری کی نہ ہومگر اس کے الٹ نظر آتا ہے۔یورپ مذہبی لحاظ سے دہر یہ ہو گیا ہے مگر پادری جہاں بھی چلا جائے لوگ اس کی باتوں پر کان دھریں گے۔اسی سٹرائک میں جو ولایت کے مزدوروں نے کر رکھی ہے آرچ بشپ آف کمینٹر بری نے ایک اعلان سرکاری اخبار میں شائع ہونے کے لئے بھیجا جو نہ شائع کیا گیا۔اس